اسلام آباد میں ڈاکوؤں نے کار چھیننے کے لیۓ اس نوجوان کے ساتھ کیا کر دیا کہ وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا

اسلام آباد میں ڈاکوؤں نے کار چھیننے کے لیۓ اس نوجوان کے ساتھ کیا کر دیا کہ وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا

کسی بھی ملک کی حکومت کی یہ اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو روٹی کپڑا اور مکان مہیا کرے اس کی تعلیم ،صحت اور تحفظ کے لیۓ اقدامات کرے ۔مگر یہ سب باتیں سننے کی حد تک ہی اچھی لگتی ہیں ہم جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں اس کی حکومتیں اپنے شہریوں کو ایسا کچھ بھی مہیا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہیں ۔


نتیجے کے طور پر پورے ملک میں بے روزگاروں کی ایک فوج موجود ہے جن کے لیۓ ہماری حکومتوں کے پاس کوئی پلان موجود نہیں ہے ۔ اوراسی بے روزگاری کے سبب ملک میں چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری کے باعث روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ۔

ماضی قریب میں پرائیویٹ کمپنیوں نے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیۓ کیب کی نوکریوں کا سلسلہ شروع کیا جس سے بڑی تعداد میں پڑھے لکھے نوجوانوں نے فیض حاصل کیا اور کسی نہ کسی طرح پیسے جمع کر کے یا پھر دوسرے لوگوں سے گاڑیاں کراۓ پر لے کر کریم یا اوبر میں چلانی شروع کر دیں جس سے ان کے گھروں میں بھی چولہا جلنا شروع ہو گیا ۔

مگر اب ان معصوم نوجوانوں کے ساتھ جو رات کے اندھیرے میں بھی اپنے گھر کے چولہے جلانے کے لیۓ محنت کر رہے ہوتے ہیں ایسی وارداتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ حال ہی میں اسلام آباد میں جنید مصطفی  نامی پرائیویٹ کیب کے ایک کیپٹن کو رات دو بجے چند سواریاں ملیں جن کو منزل مقصود پر پہنچانے کے لیۓ وہ کیپٹن روانہ ہو گیا ۔

مگر بد قسمتی سے وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری سفر ہو گا ۔آدھے راستے پر پہنچ کر ان سواریوں نے اس سے اس کی زندگی بھر کی پونجی یعنی اس کی گاڑی کا تقاضا کیا،جس سے اس نے انکار کیا اس نے سوچا ہو گا کہ اگر وہ یہ گاڑی ان کو دے دیتا تو گھر کا چولہا کیسے جلتا لہذا اس نے مزاحمت کی ۔

اس کی مزاحمت کے نتیجے میں پہلے تو ان ڈاکوؤں نے چاقوؤں کے وار کر کے اس بہادر نوجوان کو زخمی کیا مگر جب اس پر بھی اپنا مقصد حاصل نہ کر پاۓ تو گولیاں مار کر جنیدمصطفی  کو ہلاک کر ڈالا اور اس کی گاڑی لے کر فرار ہو گۓ ۔

یہ اپنی قسم کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے واقعات کراچی میں بھی ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں پرائيویٹ گاڑیوں کے ڈرائیور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اس حوالے سے پرائیویٹ کیب کی کمپنیوں کو اپنے کیپٹین کی حفاظت کے لیۓ اقدامات کرنے چاہیں تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جاسکے ۔

اس حوالے سے کریم کمپنی کی جانب سے بھی ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنے کیپٹن جنید مصطفی کے قتل کی مزمت کی کریم والوں کا مذید یہ بھی کہنا تھا کہ جنید نے ان کی کمپنی کو حلال روزی حاصل کرنے کے لیۓ جوائن کیا مگر شر پسند عناصر نے ان کے اس خواب کو پارہ پارہ کر دیا اس کے ساتھ ہی کمپنی والوں نے ارباب اقتدار سے یہ درخواست کی کہ وہ جنید کے قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائيں

To Top