ملتان میں بزرگ جوڑے پر پولیس کا تشدد، ہم سب کے لۓ سوالیہ نشان ہے

ملتان میں بزرگ جوڑے پر پولیس کا تشدد، ہم سب کے لۓ سوالیہ نشان ہے

ہماری معاشرت کے بنیادی اصولوں میں بزرگوں کا احترام لازمی تصور کیا جاتا ہے۔ بزرگوں کا یہ احترام صرف ہمارا ہی وطیرہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے اندر بزرگ شہریوں کو نہ صرف امتیازی حیثیت دی جاتی ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان بزرگوں کو ملکی قوانین کے مطابق سینئیر سٹیزن کی حیٹیت سے خصوصی عزت اور آسانیوں سے بھی نوازا جاتا ہے ۔

مگر اس قانون اور تعلیم کی دھجیاں ملتان پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے بکھیر دی گئیں جب کہ ملتان میں گوشتہ دن ایک بزرگ جوڑے نے ملتان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اہلکاروں کی زیادتیوں کے خلاف بینر لے کر احتجاج کیا ۔ تفصیلات کے مطابق یہ جوڑا اس بات پر احتجاج کر رہا تھا کہ ملتان ڈیولپمنٹ کے اہل کار زبردستی ان کی زمین پر قبضہ کرنے کے لۓ نہ صرف طاقت کا استعمال کر رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کو ڈرا دھمکا بھی رہے ہیں۔

اس زیادتی کے خلاف احتجاج کے لۓ انہوں نے بینر بنوا کر اس کے دفتر کے سامنے احتجاج جیسے ہی شروع کیا۔ ملتان ڈیولپمنٹ کے اہل کار اکرم بلوچ نے ان کے بینر پھاڑ دیۓ اور اپنی مدد کے لۓ پولیس کو بلا لیا۔ پولیس اییس ایچ او غلام مرتضی نے اپنی وفاداری کا عملی مظاہرہ کرتے ہوۓ نہ صرف اس بزرگ جوڑے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اس کے ساتھ ساتھ وہ ان دونوں کو زبردستی پولیس وین میں ڈال کر تھانے لے گۓ ۔

An old couple manhandled by police in Multan

Multan police beat up an elderly couple, drag them through street https://goo.gl/We36jQ

Posted by Express Tribune Video on Monday, November 20, 2017

واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد  آرپی او محمد ادریس نے ایس ایچ او چہلیک غلام مرتضیٰ اور دیگر پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا جب کہ واقعے کی تحقیقات کے لئے ایس پی لیگل رانا محمد انور خان کو انکوائری افسر مقرر کردیا گیا ہے۔اس سارے واقعے کا خاص پہلو یہ ہے کہ اگر اس سارے واقعے کی ویڈیو سامنے نہ آتی تو ایسی کوئی کاروائی بھی نہ کی جاتی۔

اس سارے واقعے نے لوگوں میں غم و غصے کی فضا پیدا کر دی ہے۔ اور یہ مطالبہ بھی سامنے آرہا ہے کہ اس واقعے میں پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جاۓ ۔

To Top