بہاولپور کی ایک لڑکی پر ہونے والے ظلم کی داستان سچی یا جھوٹی

بہاولپور کی ایک لڑکی پر ہونے والے ظلم کی داستان سچی یا جھوٹی

شادی بیاہ زندگی کے ایسے معاملات ہوتے ہیں جن میں خاندان والوں کا عمل دخل اسی لۓ ضروری قرار دیا جاتا ہے کہ یہ صرف دو افراد کا ملن نہیں ہوتا اس کے اثرات براہ راست خاندانوں پر پڑتا ہے۔ ایسا ہی واقعہ بہاولپور کی ایک لڑکی ہما اصغر کے ساتھ پیش آیا ۔

جس میں اس نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کی کہ کس طرح سکندر علی نامی لڑکے نے اس سے شادی کی۔ اور شادی کے بعد اس نے نہ صرف اس شادی کو خفیہ رکھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اب وہ اس کا جہیز اور زیورات لے کر فرار ہو گیا ہے۔

https://www.facebook.com/huma.asghar.564/posts/746423118896593

ہما کے مظابق وہ شادی کے بعد سکندر کے ساتھ ایک کراۓ کے مکان میں رہائش پزیر تھی۔ اس نے اس شادی کے متعلق اپنے والدین کا آگاہ کر رکھا تھا۔ جب کہ سکندر کے والدین اس شادی سے لاعلم تھے۔ اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر اس نے نکاح نامہ کی تصاویر بھی منسلک کی ہیں۔اور اس کے علاوہ اپنے اور سکندر کے بیچ ہونے والی چیٹ کے اسکرین شاٹ بھی لگاۓ ہیں۔

ہما اصفرکی اس ویڈیو نے دیکھتے دیکھتے سوشل میڈیا پر ایک وائرل پوزیشن حاصل کر لی۔ اور آخر کار سکندر علی کو بھی مجبور ہو کر سوشل میڈیا پر ایک جوابی ویڈیو اپ لوڈ کرنی پڑی جس میں اس نے ہما اصغر کے سارے الزامات کو من گھڑت قرار دیا اس کے ساتھ ساتھ اس نے بھی یہ الزامات لگاۓ ہیں کہ ہما اس کے گھر سے اس کا سامان اور پیسے چوری کر کے لے گئی ہے ۔

دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر یہ جنگ جاری ہے۔ کون جھوٹا ہے کون سچا اس کا فیصلہ آنے والے وقت سے ہی ہو گا۔ مگر ان کے درمیان یہ تنازعہ تمام نوجوان لوگوں کے لۓ ایک سبق ہے جو کہ شادی بیاہ کے عمل کو ایک مذاق بنا کر وقتی تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

To Top