بھارتی صحافی کی پاکستان یاترا بھارتیوں کو آگ لگا گئی

بھارتی صحافی کی پاکستان یاترا بھارتیوں کو آگ لگا گئی

پاکستان اور بھارت کے درمیان روز اول سے چلنے والی سرد جنگ صرف حکومتوں کے درمیان ہی نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات سے عام لوگ بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ سرحد پار سے آنے والی خبروں پر نہ صرف ہر پاکستانی کی گہری نظر ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہاں سے آںے والے فرد کی حیثیت بھی ایک سفیر کی ہوتی ہے جو کہ اپنے ملک کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے ۔

ایسا ہی ایک واقعہ حالیہ دنوں میں پیش آیا جب کہ بھارتی صحافی شیوم وج نے جب پاکستان کا دورہ کیا تو اس کے ساتھ پیش آیا۔ یہ بھارتی شہری جب پاکستان آیا تو اس کے ساتھ وہ ساری تعلیمات تھیں جو اس کے بڑوں نے اول روز سے اس کی تربیت میں شامل کی تھیں۔ اس میں پاکستانیوں کے خلاف بغض ، نفرت عداوت سب شامل تھا ۔ دیگر بھارتیوں کی طرح وہ بھی پاکستان کو ایک پسماندہ اور برا ملک تصور کرتا تھا۔

مگر اپنے دورے کے دوران جب اس نے پاکستان کو دیکھا تو اس کے وہ سارے بت پاش پاش ہوگۓ ۔ اور وہ بے ساختہ پاکستان اور پاکستانیوں کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اپنی اس تعریف کا اظہار اس نے اپنے ٹوئٹس میں کیا۔ جو کہ اس کے ہم وطنوں کو ایک آنکھ نہ بھائی ۔اور اس کو سخت ترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ۔ کچھ دل جلوں نے تو اس کو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ واپس نہ آۓ وہیں رہ جاۓ

اپنے سفر کا آغاز بھارتی صحافی  نے واہگہ بارڈر کے مقام سے کیا۔ جہاں سے انہوں نے پاکستان کے دل لاہور کو دریافت کرنے کا سفر شروع کیا۔ اپنے اس سفر میں انہوں نے پاکستان کے اس شہر کو تعصب کا چشمہ اتار کر ایک انسان کی حیثیت سے دیکھا اور بے ساختہ تعریف پر مجبور ہوگۓ ۔

 

اس کے بعد انہوں نے لاہور کی فوڈ اسٹریٹ کی سیر کی۔ ٹوئٹر پر اس سیر کی تصویر لگاتے ہوۓ انہوں نے اپنے لۓ بے شرم سیاح کا کیپشن استعمال کیا ۔

 

فوڈ اسٹریٹ پر کشمیری چاۓ پیتے ہوۓ بے ساختہ اس کی تعریف کرتے ہوۓ بھارتی صحافی کا کہنا تھا کہ لاہوری کشمیری چاۓ ،نمکین چاۓ ،قہوہ اور لپٹن کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس نے اس کشمیری چاۓ کو خالص پنجابی بنا دیا ہے ۔

 

لاہور کی خوبصورتی بیان کرتے ہوۓ بھارتی صحافی کا کہنا تھا کہ میٹرو سروس کے سبب ٹرانسپورٹ کا منظم نظام ایک مثال ہے اور اس کو ایشیا کے دوسرے ممالک کو بھی نہ صرف دیکھنا چاہۓ بلکہ اس نظام کو اپنانا بھی چاہیۓ ۔

 

بھارتی صحافی کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور کی سڑکیں فقیروں سے بالکل پاک تھیں۔ ایک بھکاری کو بھی دیکھنے کے لۓ اس کو تین دن کا انتظار کرنا پڑا۔ جو کہ مستحکم معاشی حالت کا ایک ثبوت ہے

پاکستان کی اتنی تعریفوں پر ایک بھارتی شہری تو اتنی سیخ پا ہوئی کہ اس نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ لگتا ہے یہ پاکستان نہیں بلکہ نیوزی لینڈ کی یاترا کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں ایک پاکستانی نے جوابی ٹوئٹ کیا جس میں اس نے کہا کہ آنٹی جی لاہور کا ایک لبرٹی چوک آپ کے سارے بھارت سے خوبصورت ہے، سوچ لیں کہ پاکستان ایک چوک اتنا پیارا ہے تو باقی پاکستان کتنا خوبصورت ہوگا۔ آپ دونوں ممالک میں نفرتیں نہ پھیلائیں ، صحافی نے پاکستان کا وہ چہرہ دکھایا ہے جو آپ کا میڈیا نہیں دکھاتا ۔

 

بھارتی صحافی نے فوڈ اسٹریٹ کی فیرنی کی تعریف کرتے ہوۓ اس نےکہا کہ اس فیرنی نے دہلی کے سب کھانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ بھارتی صحافی شیوم وج کے اس خوبصورت ردعمل نے نہ صرف تمام پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کر دیۓ ہیں۔ بلکہ تمام پاکستانیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ میرا وطن سب سے اچھا ہے

To Top