بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں

بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں

اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے، تکلیف کی شدت نے اس کو بےحال کر رکھا تھا ، جیسے جیسےجیسے درد بڑھ رہا تھا اس کے اندر کا خوف بھی بڑھتا جارہا تھا ،اگر اس بار بھی بیٹی ہوئی تو کیا ہو گا؟ اس کے شوہر نے اس بار تو کوئی رعایت نہیں کرنی وہ تو اس کو گھر سےنکال دے گا ،وہ ان تیں بیٹیوں کو لے کر کہاں جاۓ گی، ڈاکٹر بار بار اس کو ٹوک رہے تھے کہ اگر اس کا بلڈ پریشر کم نہ ہوا تو اس کو اور اس کے بچے کی زندگی دونوں کو خطرہ ہے۔

پوچھنے والے تجھے کیسے بتائیں ، دکھ عبارت تو نہیں جو تجھے لکھ بھیجیں۔  یہ تو صرف زخم ہیں جو چھپاۓ ہی جاتے ہیں کہ کسی کے ناخن کہیں ان کو چھیل نہ دیں۔ ایک تیزچیخ نے اس کو حال میں واپس دھکیل دیا ،اس کی کوکھ سے جنم لینے والی نے پیدا ہوتے ہی اپنے نصیب پر رونا شروع کر دیا تھا ۔

Mothers_Day

Source: plus.google.com

ایک اور بیٹی کی پیدائش نے اس کی منحوسیت پر آخری مہر بھی ثبت کر دی تھی۔اب اس کے اور اس کی بیٹیوں کے لئے اس گھر میں کوئی جگہ نہ تھی ۔ اس کا شوہر بیٹی کی خبر سنتے ہی جا چکا تھا ۔ وہ اپنے ٹوٹے پھوٹے وجود کو سمیٹے ایک دن کی بچی کو لے کر رکشہ میں بیٹھے رب کا شکر ادا کر رہی تھی کہ اس کے پاس رکشہ کا کرایہ تو ہے ورنہ پیدل چلنے کی تو اس میں ہمت ہی نہ تھی ۔

پڑوس کے گھر سے اس نے اپنی تین سالہ اور دو سالہ بیٹیاں لیں اور اپنے شوہر کے گھر کی جانب بڑھی جو اب اس کے لئے پرایا ہونے جارہا تھا ۔ اس کے شوہر نے اس کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اگر اس بار بیٹی ہوئی تو واپس نہ آنا ۔ مگر اس کے تو ماں باپ بھی نہ تھے کہاں جاتی ؟

تینوں معصوموں کو سنبھالے وہ اپنے ٹوٹے پھوٹے وجود کو سمیٹے دروازے کی طرف بڑھی اور اپنے ہی گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوۓ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، اس کے شوہر نے دروازہ کھول کے انتہائی رعونت کے ساتھ دھتکارتے ہوۓ اس کے لئے اپنے گھر اور اپنی زندگی کے دروازے بند کر دئیے۔

07

Source: The Express Tribune Blog

 

سعادت حسن منٹو نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ یہاں بیٹی کوئی پیدا نہیں کرنا چاہتا مگر ہرمرد کو ہر رات اپنے بستر پر عورت ہی چاہئے ہوتی ہے ۔وہ بلکتی کرلاتی ان معصوموں کے ساتھ سر چھپانے کی جگہ کی تلاش میں نکل پڑی ۔ ہر در کھٹکھٹا کے دیکھ لیا مگر ہر در بند تھا ۔ چلتے چلتے وہ نیٹی جیٹی کے پل کے پاس آن پہنچی ۔

ہر جانب تاریک پھیل چکی تھی ۔اب اس کے پاس اس آخری فیصلے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ۔ سب سے پہلے سب سے بڑی بیٹی کا ہاتھ تھام کے اس کو پل سے نیچے دھکیلا ، اس کے بعد اس سے چھوٹی والی کو اور پھر اس نومولودکے ساتھ خود بھی پانی میں کود پڑی اور سب ختم کر دیا ۔

اگلے دن کے اخبار میں ایک چھوٹی سی سہ کالمی خبر چھپی کہ ایک بدکار ماں نے اپنے گناہ سمیت پانی میں چھلانگ لگا کر حرام موت کو گلے لگا لیا۔

 

To Top