اگر بیٹا پسند کی شادی کر سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں ؟؟؟

اگر بیٹا پسند کی شادی کر سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں ؟؟؟

لفظوں کے بھید بھاؤ میں میں الجھتی جا رہی تھی مجھے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں غلط ہوں یا صحیح ، جب میرا بھائی اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کر سکتا تھا تو یہ حق مجھے کیوں نہیں حاصل تھا میرا لڑکی ہونا جب میرے بس میں نہ تھا تو اس کی سزا مجھے کیوں مل رہی تھی

ایسا نہیں ہے کہ میرا تعلق کسی گاوں دیہات کے پسماندہ گھرانے سے تھا میرے والد ایک پرائیوئٹ فرم میں ملازم تھے جب کہ میرا ماں بھی ایک اچھے نامی گرامی انگلش میڈیم اسکول میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں

میرا بھائی جو کہ ایک نجی یونی ورسٹی سے ایم بی اے کر رہا ہے گزشتہ دنوں ہی اس کی منگنی اس کے ساتھ پڑھنے والی لڑکی کے ساتھ اس کی پسند اور ایما پر کر دی گئی میرا بھابھی کا تعلق نہ تو ہماری ذات برادری سے تھا یہاں تک کہ اس کا مسلک بھی ہمارے مسلک سے جدا تھا مگر تھوڑے اعتراضات کے بعد میرے امی ابو اس رشتے کے لیۓ راضی ہو گۓ تھے

میں اپنے بھائی سے چھوٹی ہوں اور ایک نجی یونی ورسٹی میں بی ایس کی اسٹوڈنٹ ہوں بھائی کی منگنی کی تقریب میں میری ایک کلاس فیلو نے بھی اپنی فیملی کے ساتھ شرکت کی جہاں اس کے بھائی کو میں پسند آگئی اور اس نے اپنے بھائی کی خواہش سے مجھے آگاہ کیا

اس کے بعد اس سہیلی کی ہی موجودگی میں میری ایک دو بار اس کے بھائی سے ملاقات ہوئی جو کہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے اور اسپشلائزئشن کے لیۓ باہر جانے کی تیاری کر رہے تھے انہوں نے مجھے اپنا نمبر دیا اور یہاں سے ہماری لو اسٹوری کا آغاز ہوا

مجھے یقین تھا کہ جب میرے والدین نے میرے بھائي کو پسند کی شادی کا اختیار دیا ہے تو یقینا وہ میری دفعہ بھی مان جائيں گے لہذا میں نے ان سے رشتہ بھجوانے کا کہہ دیا میری سہیلی نے بتایا کہ بھائی نکاح کر کے جانا چاہتے ہیں تاکہ دو سال بعد آتے ہی رخصتی ہو جاۓ

میں اس دن بہت خوش تھی جس دن میری سہیلی کے گھر والوں نے آنا تھا میری سہیلی کی والدہ نے میری امی کو بھی اپنے آنے کا بتا دیا تھا جس پل میری سہیلی کے امی ابو نے میرا رشتہ مانگا اس پل میری امی کا جواب مجھے حیران کر دینے والا تھا

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی ذات ، برادری سے باہر بیٹی نہیں دیتے میں حیرانگی سے ان کی شکل دیکھ رہی تھی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں ان کی تعلیم اور ماڈرن ہونے کے سارے دعوی مجھے جھوٹے لگے میں نے ان کو بہت سمجھانے کی کوشش کی ان کو کہا کہ جب وہ دوسرے مسلک کی لڑکی کو بہو بنا سکتی ہیں تو برادری سے باہر بیٹی کیوں نہیں دے سکتیں

مگر میری تمام دلیلیں ناکام رہیں اور میرے والدین نے اپنی برادری میں ہی ایک کم تعلیم یافتہ لڑکے کے ساتھ میرا چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کر دیا میرا سب سے صرف ایک ہی سوال ہے کہ ہمارے اصول و ضابطے بیٹے اور بیٹی کے لیۓ جدا کیوں ہوتے ہیں ؟؟ بظاہر برابری کا دعوی کرنے والے آج بھی ہانڈی کی پہلی بوٹی بیٹے کو ہی کیوں دیتے ہیں ؟؟؟

 

 

Parhlo

Parhlo.com is the leading open platform that represents the voice of youth with viral stories and believes in not just promoting Pakistani talent and entertainment but in liberating Pakistani youth and giving rise to young changemakers!

Posts
Parhlo Newsletter
Parhlo Newsletter

You have Successfully Subscribed!

To Top