بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں انہیں سینے سے لگاؤ نا بابا

بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں انہیں سینے سے لگاؤ نا بابا

میں نے اپنا بستہ اپنے کندھے پر ڈالا پیروں میں پھٹے ہوۓ جوتے اور سر پر پیوند زدہ اوڑھنی لے کر اسکول کے لیۓ نکل گئی ۔ گاؤں کے چھوٹے سے اسکول میں جہاں پر استانیاں پڑھانے کم اور اپنی خدمتیں کروانے زیادہ آتی تھیں میرے پھٹے پرانے کپڑوں اور جوتوں کو کوئی نہیں دیکھتا تھا ۔

میرے والد تو ویسے ہی میری پڑھائی کے بدترین مخالف تھے ان کے نزدیک لڑکیوں کی تعلیم پر خرچہ کرنے کا مطلب وقت اور پیسے کے زياں سے زیادہ کچھ نہ تھا ۔ مگر نہ جانے کیوں  مجھے کتابوں کی خوشبو سے عشق تھا ۔میں گھنٹوں بیٹھ کر بار بار پڑھی جانے والی کتابوں کو دہراتی رہتی تھی ۔

میری سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ میں ایک بیٹی تھی جس کی پیدائش سے لے کر مرنے تک کے کسی بھی فیصلے پر اسے کوئی اختیار حاصل نہ تھا ۔یہ تو سرکار کی مہربانی تھی کہ اب تک میں سرکاری اسکول میں مفت میں تعلیم حاصل کر رہی تھی مگر اب جب کہ نویں جماعت میں داخلے کا مرحلہ آیا تو میرے والد نے میری کتابوں کو آگ لگا دی

میں بہت روئی مگر میری ایک نہ سنی گئی آخر کار میں نے ہار مان لی اور گھر بیٹھ گئی میری امی نے گھر پر ہی مجھے سلائی کڑائی سکھانی شروع کر دی اب میری صبح کا آغاز نماذ کے بعد گھر کے کاموں سے ہوتا جو کہ رات گۓ تک جاری رہتا تھا

جب کہ ابو نے میرے بھائی کو نویں جماعت میں داخلہ دلوا دیا میری بہت ساری ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری بھائی کے یونیفارم کو دھونے اور اس کے لیۓ ناشتے کھانے کا انتظام بھی تھی جس کی نگرانی میرے والد خود کیا کرتے تھے کہ کہیں کسی چیز میں کوئی کمی نہ رہ جاۓ

میں اب سلائی میں اتنی ماہر ہو گئی تھی کہ محلے کی عورتیں دور دور سے عورتوں کو میرے پاس سلائی کے لیۓ لے کر آتی تھیں اب تو میرے پاس پیسے بھی ہوتے تھے میں نے ایک بار پھر ابو سے کہا کہ بھلے وہ پیسے نہ دیں مگر مجھے آگے پڑھنے کی اجازت دے دیں مگر میرے ابو نے منع کر دیا

دوسری جانب میرا بھائی ایک ایک کلاس میں دو دو سال فیل ہو رہا تھا مگر ابو کو اس کی فیس بھرنے پر کوئی اعتراض نہ تھا ۔ میں نے اب اپنے گھر پر ہی دوسری لڑکیوں کو بھی سلائی سکھانی شروع کر دی تھی  فارغ وقت میں بھائی کی کتابیں پڑھ لیتی تھی ۔ میں نے ان کتابوں سے بھائی سے زیادہ علم  حاصل کر لیا تھا جو وہ اتنی فیسیں دے کر بھی حاصل نہ کر پایا ، مگر پھر بھی ابو جب بھی کہتے یہی کہتے کہ میرے بڑھاپے اور مشکل وقت کا سہارا تو میرا بیٹا ہی بنے گا

ایک دن گھر آتے ہوۓ ابو کا ایکسیڈنٹ ہو گیا جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی پر ایسی چوٹ آئی جس سے وہ اٹھنے بیٹھنے سے معذور ہو گۓ ۔ اس وقت میرے ابو کا سہارا گیارہویں جماعت میں ایک بار پھر فیل ہو گیا اور اس کے بعد اس نے نہ صرف پڑھائی سے انکار کر دیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کسی قسم کی نوکری کرنے سے بھی منع کر دیا

اب گھر کا سارا بوجھ میرے کاندھوں پر آگیا میں سلائی کر کے اور لڑکیوں کو سلائی سکھا کر گھر کے اخراجات اٹھانے لگی ۔ رفتہ رفتہ میرا کام اتنا بڑھا کہ میں نے گھر ہی میں چار پانچ مشینیں لگا کر ایک فیکٹری والوں کو مال سپلائی کرنے لگی

اب میرے ابو اکثر بستر پر لیٹے لیٹے میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہیں اور روتے ہیں میں جانتی ہوں کہ اب ان کو دکھ ہوتا ہے کہ انہوں نے مجھے پڑھایا کیوں نہیں مگر میں اس اذیت کو کبھی نہیں بھول سکتی جو کہ میری کتابوں کو آگ میں جلتے دیکھ کر مجھے ہوئی تھی میں بہت کوشش کے باوجود آج بھی اپنے ابو کو معاف نہیں کر پائی۔ کاش ہمارے والدیں یہ سمجھ سکیں کہ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں

To Top