قیامت کی نشانی :سگا باپ اپنے بھائی اور پڑوسی کے ساتھ مل کر اپنی پندرہ سالہ بیٹی کو زيادتی کا نشانہ بناتا رہا

قیامت کی نشانی :سگا باپ اپنے بھائی اور پڑوسی کے ساتھ مل کر اپنی پندرہ سالہ بیٹی کو زيادتی کا نشانہ بناتا رہا

انسانی رشتوں میں باپ بیٹی کا رشتہ ایسا ہوتا ہے جس کی صداقت اور خلوص کے بارے میں کوئی بھی شک نہیں کر سکتا ایک باپ ایک وقت میں اپنی بیٹی کے سر کی چادر اس کا مضبوط سائبان اور اس کا آئیڈیل ہوتا ہے ۔ بیٹی کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد اس کا باپ ہی ہوتا ہے اور اس کے بعد ہر مرد کو اپنے باپ کے کردار کے آئینےمیں ہی جانچتی ہے

مگر بدقسمتی سے قیامت کے قریب ہونے کی نشانیوں میں سے ایک یہ نشانی بھی ہے کہ رشتوں پر سے اعتبار ختم ہو جاۓ گا اور ایسا ہی واقعہ خبروں کی زینت بنا یہ واقعہ کسی اور شہر کا نہیں بلکہ اسی قصور کا ہے جہاں پر معصوم بچیاں اکثر وہاں کے نام نہاد مردوں کی مردانگی کے سبب جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی رہتی ہیں جہاں کی معصوم زینب کا زخم ہی ابھی پوری طرح بھر نہیں پایا کہ اس علاقے قصور کے ایک گاؤں گنجاں والا کا یہ واقعہ سامنے آگیا

یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک عزاب ہے جو کہ ہمارے معاشرے پر اس قسم کے افراد کی صورت میں مسلط ہو رہا ہے تفصیلات کے مطابق قصور کے اس رہائشی کی اپنی بیوی سے طلاق ہو گئی جس کے نتیجے میں اس کے چار بچوں میں سے تین اس کی بیوی اپنے ساتھ لے گئی جب کہ چوتھی بیٹی جس کی عمر پندرہ سال تھی اس کو اس آدمی نے اپنے ساتھ رکھ لیا

اس کے گھر میں اس کے ساتھ اس کا جوان بھائی بھی رہتا تھا جس نے اس معصوم بیٹی جیسی بھتیجی کو اپنی جنسی تسکین کی تکمیل کا ذریعہ سمجھ کر اس کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔ اس بارے میں جب اس بچی کے باپ کو پتہ چلا تو ہونا تو یہ چاہیۓ تھا کہ وہ باپ اپنے بھائی کے خلاف کچھ اقدامات کر کے اپنی بچی کے تحفظ کا بندوبست کرتا

اس سگے باپ نے اپنی معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا کھیل کھیلنا شروع کر دیا پندرہ سالہ معصوم بچی جس کے ساتھ یہ دونوں درندے نہ صرف خود زیادتی کرتے بلکہ انہوں نے اس گندے کھیل میں اپنے ایک پڑوسی کو بھی شامل کر لیا اور یہ تینوں درندے مل کر اس معصوم کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے لگے

اس ظلم کے سبب جب اس معصوم بچی کی حالت بگڑی تو اس کی پھوپھی اس کو اپنے ساتھ لے گئی مگر ان وحشیوں نے وہاں بھی اس کی جان نہ چھوڑی جس پر اس معصوم بچی نے بھاگ کر جب یہ سب بات اپنے نانا کو بتائی تب پولیس والوں کو ہوش آیا اور انہوں نے ان تینوں ملزمان کو گرفتار کیا

اس واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ  صرف اس معصوم بچی کے ساتھ اس ہونے والے ظلم کی خبر نہ ا ہی اس کی پھپھو کو بھی تھی بلکہ اس بارے میں سب گاؤں والوں کو بھی پتہ تھا مگر انہوں نے اس ظلم کو نہ تو روکنے کی کوشش کی اور نہ اس بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم گے خلاف آواز اٹھائی

اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں کی نظر میں یہ کوئی برائی نہیں ہے اگر معاشرے کا اس طرح کا رویہ جاری رہا تو پھر اگر ہمارے معاشرے میں زینب جیسے واقعات ہو رہے ہیں تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیۓ ایسے مجرموں کو اتنی شدید سزا ملنی چاہیۓ کہ لوگ اس عمل کو غلط سمجھنا شروع کر دیں اور اس گھناونے کام کا حصہ بننے سے قبل سو بار سوچیں

 

 

To Top