میں ایک باپ ہوں اپنی ہی بیٹی پر بری نظر کیسے رکھ سکتا ہوں ؟

میں ایک باپ ہوں اپنی ہی بیٹی پر بری نظر کیسے رکھ سکتا ہوں ؟

میرا گھر میری جنت تھا اللہ نے مجھے ایک بیٹے اور بیٹی سے نوازا تھا اچھی پرائیویٹ فرم میں نوکری ، سلیقہ شعار بیوی غرض میں قدرت کا جتنا شکر ادا کرتا کم تھا ۔ بیٹا بڑا تھا اس کو پڑھایا لکھایا ایم بی اے کرنے کے بعد جب اس کی نوکری لگی تب اس کی شادی کر دی ۔

بیٹی چھوٹی تھی یونی ورسٹی میں پڑھ رہی تھی سوچا تھا کہ ایک آدھ سال میں اس کی بھی شادی کر دیں گے ۔ مگر اچانک میرے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔میری بیوی کو کینسر ہو گیا وہ بھی اس وقت جب کہ میں ریٹائرمنٹ کے آخری مرحلے پر تھا ۔

میں نے اپنی ساری جمع پونجی اس کے علاج کے لیے بیچ دی آخری اثاثہ میرا گھر تھا وہ بھی بیچ کر ہم کراۓ کے گھر میں آگۓ ۔میری بیوی کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی تھی ۔اس کو دکھ تھا کہ وہ اپنی بہو کے نخرے بھی نہیں اٹھا سکی اور بستر سے لگ گئی ۔

یہ دکھ لیے وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی اسکے مرنے کے بعد جب میں نے اپنے اردگرد نظر ڈالی کہ میری زندگی میں جو رونق ،آسائش پیسہ سب اسی کے دم سے تھا جو وہ اپنےساتھ لے گئی اب مجھے ہر خرچے کے لیے اپنے بیٹے کی جانب دیکھنا پڑتا ۔

بیٹی کی تعلیم پوری ہو گئی تھی اور وہ بھی جہیز اور ماں نہ ہونے کے سبب کنواری بیٹھی تھی ۔ایک شام میرے بیٹے نے مجھے آکر ایسی بات کی کہ میں اپنی نظروں ہی میں گر گیا ۔اس نے کہا کہ اس کی بیوی کہتی ہے کہ میں اس پر یعنی اپنی بہو پر بری نظر رکھتا ہوں اس وجہ سے وہ یہاں خود کو محفوظ نہیں سمجھتی اس لیۓ وہ لوگ اپنے فلیٹ میں شفٹ ہورہے ہیں ۔

بیٹے کی ا س بات نے مجھے اپنی نظروں میں گرا دیا  میں تو ان کو روکنے کے قابل بھی نہیں رہا ۔ میری بیٹی نے ایک فیکٹری میں نوکری کر لی اور گھر کا دال دلیہ چلنے لگا میں نے بھی نوکری کی کوشش کی مگر ناکام رہا ۔

لوگ میری بیٹی کو دیکھنے آتے مگر جب ان کے کانوں تک یہ بات پہنچتی کہ میری بہو نے مجھ  پر یہ الزام لگایا وہ نہ صرف پلٹ کر نہ آتے بلکہ ہم باپ بیٹی پر بھی ایسے الزامات لگاتے جن کو بیان کرنے کی طاقت مجھ میں نہیں۔

‘کب تک تو اس طرح بیٹی کی کمائی کھاۓ گا’ میری بڑی بہن کب سے مجھ پر طعنوں کے تیر برسا رہی تھا اور میں بے بسی سے اس کی باتیں سنتا جارہا تھا اس کی بات بھی غلط نہ تھی مگر میں اپنی پڑھی لکھی جوان بیٹی کا ہاتھ کسی راہ چلتے کے حوالے تو نہیں کر سکتا تھا نا ۔ اب تو مجھے اسی بات کا انتظار تھا کہ میری بیٹی کسی کا ہاتھ تھام کر لاۓ اور کہے کہ میں نے اس سے نکاح کر لیا ہے

To Top