گھر کی دال روٹی چلانے کے لیۓ عورتوں نے کس ہنر کا استعمال کر لیا کہ سب ہی تعریف کرنے لگے

گھر کی دال روٹی چلانے کے لیۓ عورتوں نے کس ہنر کا استعمال کر لیا کہ سب ہی تعریف کرنے لگے

ہمارے معاشرے میں تنہا عورت کے لیۓ زندگی کے معاملات چلانا ایک دشوار ترین عمل ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے عورتوں کے لیۓ کچھ حدود و قیود خود ساختہ طور پر بنا لی ہیں اور اسی سبب ہم یہی امید رکھتے ہیں کہ خواتین ان حدود سے باہر نکل کر کچھ بھی نہیں کر سکتیں ۔


مگر موجودہ حالات میں جب ملک کے معاشی حالات تیزی سے تنزلی کا شکار ہیں ملک کی اکیاون فی صد آبادی کو صرف یہ کہہ کر گھر میں بٹھا دینا کہ یہ ان کے کرنے کا کام نہیں ہے ایک مثبت عمل نہیں ہے اسی وجہ سے اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ خواتین گھر سے باہر نکل کر بہت سارے ایسے کام بھی انجام دے رہی ہیں جو اس سے پہلے ان کے لیۓ محال تصور کیۓ جاتے تھے جیسے کہ رکشہ ، وین یا پھر ٹرک چلانے جیسے کام بھی اب خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہیں ۔

سرگودھا میں خواتین کا ہوٹل

Posted by Pakistan Media News on Friday, March 9, 2018

پنجاب کے شہر سرگودھا کے بارے میں تصور یہ کیا جاتا ہے کہ یہ کوئی بڑا شہر نہیں ہے اسی شہر میں کچھ بیوہ خواتین نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک ایسا کام شروع کیا جس کی ذریعے نہ صرف وہ دوسری خواتین کے روزگار کا سبب بھی بنیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ باعزت طور پر محنت کر کے اپنے اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھی پال رہی ہیں ۔

سرگودھا کے علاقے غلہ منڈی میں اڑتالیس سالہ بیوہ کوثر بی بی نے اپنے جیسی ہی چھ خواتین کے ساتھ مل کر ایک کراۓ کی دکان میں اپنے گھانا پکانے کی صلاحیت کی بنا پر ایک ہوٹل کا آغاز کیا ان کے ساتھ باقی خواتین بھی انہی کی طرح بیوہ تھیں اور ان کو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیۓ روزگار کی تلاش تھی ۔

ان تمام باحوصلہ خواتین نے مل کر اس علاقے میں خواتین کا ہوٹل قائم کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے اس علاقے کے معروف ہوٹل میں تبدیل ہو گیا ۔اس ہوٹل کی خصوصی شہرت کا سبب اس کی لذت اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی قیمت ہے ۔ یہاں کھانے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے کھانے کی لذت کے سبب وہ دور دور سے آتے ہیں

کوثر بی بی نے حکام سے اپیل کی کہ ان کو ہوٹل کی جگہ مہیا کی جاۓ تاکہ اس طرح سے وہ اپنی جیسی مذید خواتین کو بھی روزگار مہیا کر سکیں ان عورتوں کے حوصلوں کی داستان ان سب لوگوں کے لیۓ ایک مثال ہے جو اس ملک میں بیروزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں انسان اگر ہمت کرے تو اپنی ناتوانی کے باوجود خالی ہاتھوں سے بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں

 

To Top