کیا یہ بات درست ہے کہ قیامت کے دن مردوں سے زیادہ عورتیں جہنم میں جائیں گی

کیا یہ بات درست ہے کہ قیامت کے دن مردوں سے زیادہ عورتیں جہنم میں جائیں گی

عام طور پر ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ آخرت میں مردوں سے زیادہ عورتیں جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گی اس بات کے حوالے کے طور پر جس حدیث  کا ذکر کیا جاتا ہے وہ یہ ہے

’’حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید الفطر کے دن نماز پڑھنے کی جگہ کی طرف نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کے گروہ، صدقہ کیا کرو۔ بے شک، میں نے تمھاری اکثریت کو آگ میں دیکھا ہے۔ وہ کہنے لگیں: وہ کیوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت زیادہ لعنت ملامت کرتی ہو اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔‘‘(بخاری، رقم ۲۹۸)

مگر بعض علما دین کچھ وجوہات کے سبب اس حدیث کو تسلیم کرنے میں اور اس بات کو حتمی سمجھنے میں پس و پیش کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک انسان کو اس لیۓ جہنم کا زیادہ مستحق سمجھا جاۓ گا کہ وہ صنف نازک سے تعلق رکھتی ہے

یہ حدیث کمزور ہے

علما کرام اس حدیث کے سیاق و سباق کی بنیاد پر اس کو کمزور تصور کرتے ہیں اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث میں ہمارے پیارے نبی ایک بیوی کے فرائض کو بیان کر رہے تھے اس میں تمام عورتوں کا ذکر نہیں تھا اور  اس حدیث کے کمزور ہونے کی سند یہ بھی ہے کہ یہ حدیث عید کے حوالے سے روایت کی گئی ہے تو اس عید کے موقعے پر ہمارے پیارے نبی سےعید کے بجاۓ کسی اور موضوع کو ہمارے پیارے نبی کے حوالے سے منسوب کیا گیا ہے

اگر اس حدیث کو صحیح مان بھی لیا جاۓ تو اس کی تشریح سیاق و سباق سے ہٹ کر کی گئی ہے

اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں کہ جہنم میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگی۔ یہ راے اس وجہ سے قائم کی گئی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں موجود اسلوب کو صحیح طرح سے نہیں سمجھا گیا۔ یہ اسلوب عام طور پر ان احادیث میں موجود ہوتاہے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب بیان ہوئے ہیں۔ اس طرح کے خواب اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے لیے تعلیم کا ذریعہ ہوتے ہیں اور ان میں ان کوتمثیلاً بعض حقائق بتائے جاتے ہیں۔ان میں حقائق کو علامتوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ اہل ایمان کو تعلیم دے سکیں

اللہ تعالی سب سے بڑا منصف ہے

اللہ تعالی کی ذات سب سے زيادہ انصاف پسند ہے اور ہدایات کے منبع قرآن و سنت بھی عورتوں اور مردوں کو یکساں ہدایت فراہم کرتی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالی صرف جنس کی بنیاد پر کسی بھی انسان کے جنت و دوزخ میں جانے کا فیصلہ کریں گے جب کہ سورۃ النحل کی آیت 97 میں اللہ تعالی خود فرماتے ہیں

جس نے نیک کام کیا مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان بھی رکھتا ہے تو ہم اسے ضرور اچھی زندگی بسر کرائیں گے، اور ان کا حق انہیں بدلے میں دیں گے ان کے اچھے کاموں کے عوض میں جو کرتے تھے۔

اس آیت سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنت اور دوزخ کا فیصلہ انسانوں کے اعمال پر منحصر ہے

To Top