انسانی رشتوں کی ایسی عبرت انگیز داستان جس نے سب کے رونگٹھے کھڑے کر دیۓ

انسانی رشتوں کی ایسی عبرت انگیز داستان جس نے سب کے رونگٹھے کھڑے کر دیۓ

آدم  کو اللہ تعالی نے مٹی سے بنایا ہے ۔اس کے بعد اس ہی کی پسلی سے اللہ تعالی نے اس کے لیۓ حوا کو تخلیق کیا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کر سکے ۔عورت کی ذات کو اللہ نے سکون حاصل کرنے کا ایک ذریعہ قرار دیا ۔

بزرگوں کا یہ کہنا ہے کہ نکاح کے تین بولوں کے ساتھ مرد اور عورت آپس میں محبت کی ڈور سے بندھ جاتے ہیں اور بچوں کی پیدائش کے بعد اس محبت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے مگر بعض اوقات انسان کی نظر سے ایسے بھی واقعات گزرتے ہیں جو کہ عقل و شعور کے تسلیم کرنے کے درجوں سے بالاتر ہوتے ہیں ۔

ایسا ہی ایک واقعہ کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی کے علاقے میں پیش آیا جہاں پر زینب نامی ایک خاتون نے ایک گھر کراۓ پر لیا ۔اس کے شوہر احمد اور اس کی بیٹی بھی اس کے ہمراہ تھے ۔ اس عورت کی بیٹی فرسٹ ائیر کی طالبہ تھی جو کہ اپنے خالہ ذاد زہیر کو پسند کرتی تھی ۔

اس کے اس رشتے کے لیے اس کی ماں زینب تو راضی تھی مگر اس کا باپ اس رشتے کا شدید مخالف تھا ۔ جب کہ دوسری جانب زینب کے بھی اپنے دور پار کے رشتے دار رجب کے ساتھ تعلقات تھے ۔احمد بیٹی اور بیوی کی اس روش سے ناخوش رہتا تھا ،

اس نے ان دونوں کو پیار محبت سے سمجھانے کی کوشش کی مگر ان دونوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا ۔ یہاں تک کہ اس کی بیٹی سونیا نے اپنے کزن زہیر کے ساتھ گھر سے بھاگنے کی بھی کوشش کی جس میں اس کو اپنی ماں کی بھی مدد حاصل تھی ۔

مجبورا احمد نے گھر میں اپنی بیٹی کو زنجیروں سے باندھ کر رکھنا شروع کر دیا ان زنجیروں کی چابی وہ اپنے پاس ہی رکھتا تھا ۔ آخر کار زینب نے ایک ایسا منصوبہ بنایا جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں مل سکتی ۔ اس نے اپنے آشنا رجب اور اپنے بھانجے زہیر کے ساتھ مل کر احمد کو راہ سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ۔

اس نے پہلے تو نشہ آور گولیاں کھلا کر احمد کو بے ہوش کیا ۔اس کے بعد اپنی بیٹی کو زنجیر سے آزاد کروا کر گھر سے باہر بھجوا دیا ۔اس کے بعد زہیر کے ساتھ مل کر اسی زنجیر سے گلا گونٹ کر احمد کو مار ڈالا  مار ڈالنے کے بعد لاش کو ٹھکانے لگانے کا مرحلہ تھا

اس کے لیۓ اس نے رجب کے ذریعے بازار سے قصائیوں والی چھری ، ٹوکا اور بڑے چولہے اور پتیلے منگواۓ ۔اس کے بعد ان تینوں شقی القلب لوگوں نے اس لاش کے 623 ٹکڑے کیۓ ۔ٹکڑے کرنے کے بعد ہلدی ڈال کر ان ٹکڑوں کو ہانڈی میں پکانے ڈال دیا تاکہ اس گوشت کو ٹھکانے لگا سکیں ۔

جب انسانی گوشت کے ابلنے اور پکنے کی بدبو نے اہل محلہ کو پریشان کیا تو انہوں نے اس عورت سے استفار کیا ۔جس کا وہ کوئی مناسب جواب نہ دے سکی ۔مجبورا اہل محلہ نے پولیس والوں سے رابطہ کیا ۔جس پر پولیس نے اس عورت اور اس کے بھانجے زہیر کو لاش کے 62 ٹکڑوں کے ساتھ گرفتار کر لیا جب کہ رجب نامی شخص موقعے سے فرار ہونے میں ناکام ہوگیا۔

To Top