اولاد کی چاہ میں ایک ایسی عورت کی داستان جس نے دوسری عورت کا کلیجہ جلا ڈالا

اولاد کی چاہ میں ایک ایسی عورت کی داستان جس نے دوسری عورت کا کلیجہ جلا ڈالا

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

وہ مزار کی جالیاں تھامے زار وقطار رو رہی تھی اس کے اتنا رونے کے سبب اس کا کمزور سا جسم ہچکولے کھا رہا تھا مگر وہ اس سب سے بے نیاز بس جالیوں کو تھامے روۓ جا رہی ۔ لوگوں کے رش اور گرمی کے سبب مزار کی اس اندرونی جگہ پر بے طرح حبس ہو گیا تھا مگر اس کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ ہر قسم کے احساس سے عاری ہو چکی ہے ۔

اس کے بعد ایک دم پچھاڑ کھا کر وہ پیچھے کی طرف گری اور بے ہوش ہو گئی بظاہر وہ تنہا ہی نظر آرہی تھی کیوں کہ کسی نے بھی اس کو اٹھانے کی کوشش نہ کی آخر کچھ عورتیں اس کی جانب بڑھیں جن میں میں بھی شامل تھی اور ہم نے اس کو اٹھا کر مزار سے باہر ہوا دار جگہ پر لٹا دیا اور اس کے چہرے پر پانی کی چھینٹے مارے تاکہ وہ ہوش میں آسکے


کافی کوششوں کے بعد وہ جب ہوش میں آئی تو عورتوں کے فطری جزبہ تجسس سے مجبور ہو کر اس کے اس طرح بے طرح رونے کا سبب دریافت کیا ۔ اس نے جو بتایا اسی کی زبانی تحریر کر رہی ہوں ۔

میرا تعلق بنگلہ دیش سے ہے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد میں بھی اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ پاکستان اگئی جہاں سولہ سال کی عمر میں میری شادی اپنے ایک رشتے دار سے کر دی گئی جو کہ اپنی ماں کا اکلوت بیٹا تھا شادی کے سات سال تک اولاد کی خوشی سے محروم رہے ۔

اس دوران ایک جانب توسسرال والوں نے میری زندگی اجیرن کیۓ رکھی اور دوسری جانب میری اپنی اولاد کی خواہش نے مجھے اتنا بے چین کیا کہ میں نے کوئی مزار کوئی در خالی نہ چھوڑا ایک دن میری ایک جاننے والی نے مجھے ایک پیر صاحب کا پتہ دیا جن کی کرامات سے کافی عورتیں اولاد پا چکی ہیں ۔ میں ان پیر صاحب کے پاس اپنی غرض لے کر گئی

انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ اولاد کی کمی آخر تمھیں میرے پاس لے ہی آئی مگر بندش کے سبب جب تک تم میری ہدایت پر عمل نہیں کرو گی تب تک تمھاری گود نہیں بھر سکی اس کی باتوں نے میرا یقین اس پیر پر اور بڑھا دیا اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں اس کی ہر بات مانوں گی ۔

اس پیر نے پہلے تو مجھے کہا کہ میں اولاد کا خیال چھوڑ دوں کیوں کہ مجھے اس کے لیۓ جو چلہ کرنا پڑے گا وہ بہت مشکل ہے مگر جب میں نے بہت ضد کی تو اس نے جن چیزوں کا مجھ سے تقاضا کیا وہ میرے رونگٹھے کھڑے کرنے کے لیۓ کافی تھا ۔

اس پیر نے کہا کہ اس کو ایک نومولود بچے کا کلیجہ چاہیۓ جس کو کسی ایسی مری ہوئی عورت کی قبر پر جلانا ہے جو دوران زجگی مری تھی ۔اس کے ساتھ اس پیر نے راز داری کی شرط لازمی رکھی اس کے مطابق اس بات کا میرے شوہر کو بھی پتہ نہیں چلنا چاہیۓ ورنہ عمل الٹا بھی ہو سکتا ہے ۔

اولاد کی چاہ میں میں نے اس پیرکے بتاۓ عمل کو کرنے کی حامی بھر لی اب سب سے اہم مسلہ کسی بھی نومولود کا کلیجہ حاصل کرنا تھا زجگی کے دوران مرنے والی عورت کی قبر کا مسلہ نہ تھا کیوںکہ حال ہی میں ہمارے محلے کی ایک عورت کا انتقال دوران زچگی ہوا تھا ۔

اس حوالے سے بہت سوچ بچار کے مجھے ایک ہی حل نظر آیا کہ میں نے اپنے ایک جاننے والی عورت سے رابطہ کیا جو سرکاری ہسپتال میں دائی کے طور پر کام کرتی تھی اس کو پیسوں کی لالچ دے کر مین نے ایک نومولود بچے کو اغوا کرنے پر امادہ کیا

اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے شوہر سے میکے جانے کی اجازت لی بچہ ہاتھ آتے ہی میں اس کو لے کر قبرستان کی جانب گئی اور رات کی تاریکی میں اس کا گلا گھونٹ کر اس کو مار ڈالا اور چھری سے اس کا کلیجہ نکال کر اس قبر پر جلا دیا

یہ سب عمل کر کے میں گھر واپس آگئی اگلے دن پیر صاحب کے پاس گئی اور اس کو سب بتا دیا جس پر پیر صاحب نے مجھے اپنے خاص کمرے میں آنے کا کہا تاکہ وہ میرے اوپر بندش کی توڑ کا عمل کر سکیں ۔

اس کمرے میں لے جا کر انہوں نے میری عزت لوٹ لی اور مجھے کہا کہ اگر میں نے اس بارے میں کسی کو بتا یا تو وہ سب کو اس بارے میں بتا دیں گے کہ میں نے بچے کا قتل کیا ہے انہوں نے مجھے وہ ویڈیو بھی دکھائی جو انہوں نے اس وقت ریکارڈ کر لی تھی جب میں نے انہیں سب بتایا تھا

اس کے بعد چند ہی دنوں میں حاملہ ہو گئی اور میرا پہلا بچہ پیدا ہوا اس بات کو پانچ سال ہو چکے ہیں ہر سال میرے گھر ایک بچہ پیدا ہوتا ہے مگر وہ بچہ میرے شوہر کا نہیں اس پیر کا ہوتا ہے جو مجھے بلیک میل کر کے مجھ سے جنسی زیادتی کرتا ہے

ایک اور سزا جو قدرت نے مجھے دی وہ ان تمام سزاؤں سے بھیانک ہے وہ یہ کہ میرا ہر بچہ مفلوج پیدا ہوتا ہے اس کی حیثیت گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں ۔ میں آج اسی لیۓ رو رو کر اللہ سے یہ دعا مانگ رہی تھی کہ میری سزا کا خاتمہ کر دیں یا مجھے موت دے دیں۔

To Top