اگر اسلام مرد کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دیتا ہے تو عورت کو ایک سے زیادہ شوہر رکھنے کی اجازت کیوں نہیں دیتا ؟

اگر اسلام مرد کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دیتا ہے تو عورت کو ایک سے زیادہ شوہر رکھنے کی اجازت کیوں نہیں دیتا ؟

موجودہ زمانے میں جب ہر جانب عورتوں کے حقوق کا شور و غوغا برپا ہے اور ہر جانب سے اس بات کا مطالبہ نظر آتا ہے کہ عورتوں کو بھی مردوں کے مساوی حقوق ملنے چاہیۓ ہیں ۔اس موقعے پر کچھ ایسے نکات بھی ہیں جن پر مشرق و مغرب کی عورت چاہے بھی تو مردوں کی برابری نہیں کر سکتی ہے ان میں سے ایک اس امر کی پابندی بھی ہے کہ عورتیں مردوں کی طرح بیک وقت چار شادیاں نہیں کر سکتی ہیں

بہت سے لوگ جن میں بعض مسلمان بھی شامل ہیں اس امر کی دلیل مانگتے ہیں کہ جب ایک مسلمان مرد کو ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت ہے تو یہی ’’حق‘‘ عورت کو کیوں نہیں دیا گیا؟

قرآن و سنت کی روشنی میں

اللہ تعالی نے قرآن میں واضح طور پر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ مرد اگر انصاف کر سکے تو اس کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت ہے اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے سورۃ النسا میں واضح طور پر یہ بھی فرمایا ہے کہ مرد کن کن عورتوں سے شادی کر سکتا ہے

اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام ہیں) مگر جن (لونڈیوں) کے تم مالک بن جاؤ، یہ اللہ کا قانون تم پر لازم ہے، اور ان کے سوا تم پر سب عورتیں حلال ہیں  سورۃ النسا آيت 24

اس آیت میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ شادی شدہ عورتوں سے ان کے شوہر کے ہوتے ہوۓ کسی اور مرد کو شادی کی اجازت نہیں ہے

جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں

طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایڈز اور سرطان رحم کا بنیادی سبب جنسی آوارگی اور صنفی انتشار ہے، عورت کے رحم میں مختلف لوگوں کے مادہ منویہ کا جمع ہونا عورت کے اندر ایڈز اور سرطان رحم کاشدید خطرہ پیدا کرتا ہے

معاشرتی نقطہ نظر سے

عورت کو ایک کھیتی سے تشبیہ دی جاتی  ہے اگر عورت بیک وقت ایک مرد سے زیادہ مردوں سے جنسی تعلق رکھے گی تو اول تو اس سے پیدا ہونے والے بچے کے نسب کے معاملے میں شکوک و شبہات پیدا ہوں گے اس کے ساتھ ساتھ عورت کو گھر کی ملکہ کی حیثیت حاصل ہے وہ بیک وقت کئی گھروں کی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا نہیں کر سکتی ہے

نفسیاتی اعتبار سے

نفسیاتی اعتبار سے عورت کی فطرت میں محکومیت کا عنصر پایا جاتا ہے اسی سبب وہ ایک مرد کی حاکمیت کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار سکتی ہے مگر اگر اس کے ایک سے زیادہ شوہر ہوں تو اس کی فطرت ایک سے زیادہ حاکموں کی صورت میں بے سکونی کا شکار ہوجاۓ گی اور وہ شدید ترین ڈپریشن میں بھی مبتلا ہو سکتی ہے

ان تمام وجوہات کے سبب اللہ تعالی نے عورتوں کو ایک سے زیادہ شادیوں سے منع فرمایا ہے تاکہ وہ اپنے مزاج اور فطرت کے مطابق زندگی کے فرائض انجام دے سکے

To Top