آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے بچے کا اپنی ماں کے نام خط

آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے بچے کا اپنی ماں کے نام خط

پیاری ماں،

السلام و علیکم، کیسی ہیں آپ؟ آج مجھے آپ سے بچھڑے پورے تین سال ہو گئے ۔ جانتا ہوں کہ یہ جاننے کے باوجود کہ میں شہید ہوں یہاں بہت آرام سے ہوں پھر بھی آپ مجھے نہیں بھولیں ۔ آج بھی صبح جب بھائی کو آپ اسکول کے لۓ جگانے جاتی ہیں تو اس سے پہلے آپ کی زبان پر پہلے میرا ہی نام آتا ہے اور اس کے بعد آنسو خود بخود آپ کی آنکھیں بھگو جاتے ہیں ۔

03

امی جان تین سال پہلے آج کے دن آپ نے مجھے اسکول کے لۓ کتنے پیار سے تیار کیا تھا نا ۔ اور ناشتے میں اپنے ہاتھوں سے پراٹھا بنا کے کھلایا تھا ۔ میں کتنی ضد کر رہا تھا کہ اگر بھائی اسکول نہیں جارہے تو میں بھی نہیں جاؤں گا ۔ مگر آپ نے اتنے پیار سے ناشتہ بنا کر دیا اور اپنے ہاتھوں سے کھلایا کہ میں تو بھول ہی گیا کہ میں چھٹی کرنا چاہتا تھا ۔

اب تو آپ بھی سوچتی ہوں گی کہ کاش آپ نے مجھے نہ بھیجا ہوتا تو آج میں آپ کے پاس ہوتا ۔ مگر امی جان اللہ میاں کی یہی مرضی تھی آپ اداس مت ہوا کریں یقین مانیں میں یہاں بہت خوش ہوں ۔شہید کوئی مرے ہوۓ تھوڑی ہوتے ہیں۔

امی جان پانچ دسمبر کو میری سالگرہ کتنے اہتمام سے ابو نے منائی تھی یاد ہے؟ جب دادی جان نے ابو سے پوچھا تھا کہ اس بار اتنا اہتمام کیوں کیا تو ابو نے کیا کہا تھا؟ ابو نے کتنے فخر سے کہا تھا کہ میرا بیٹا چودہ سال کا ہو گیا ہے میرے کاندھے کے برابر آگیا ہے میرا بازو بن گیا ہے تبھی میں اتنا خوش ہوں ۔

امی؟ ابو اب کیسے ہیں؟ اب تو ان کا وہ بازو جس کو انہوں نے چودہ سالوں تک پالا ان کا سہارہ بننے کے لۓ نہیں رہا خود کو میرے بغیر کمزور تو محسوس کرتے ہوں گے ۔

01

سنا ہے ہمیں مارنے والوں کو دنیا میں بھی سزا مل گئی ہے۔ امی کیا ان لوگوں کے بچے نہیں تھے؟ جو انہوں نے اتنے بچوں کو مار ڈالا اور ان کا ہاتھ تک نہیں کانپا؟ امی مجھے آج بھی وہ منظر نہیں بھولتا جب وہ مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر گولیاں برسا رہے تھے ۔

ماں؟ میں نے اور میرے دوستوں نے تو اس وطن کے لۓ بہت بڑے بڑے خواب دیکھے تھے ۔ہم سب اپنے دیس کی پاک فوج میں جانا چاہتے تھے ۔ وہاں جا کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہوۓ شہید ہونا چاہتے تھے ۔ شاید دشمنوں کو ہمارے ارادوں کی خبر ہو گئی تھی تبھی تو انہوں نے ہم سب کو مارنے کی سوچی ۔

آحر میں امی بس اتنا کہوں گا کہ جس جنت کی لالچ میں ان دہشت گردوں نے ہمیں مارا تھا وہ جنت ان کو تو نہیں ملی مگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو ضرور مل گئی ہے۔ میری طرف سے ابو اور دادی کو سلام کہیے گا ۔

آپ کا شہید بیٹا

To Top