آپ کا وقت آپکی پہچان ہے

آپ کا وقت آپکی پہچان ہے

دوستو ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں ایک چیتے اور گدھے کے درمیان بحث چھڑ جاتی ہے۔ بحث بہت عجیب ٹاپک پر ہوتی ہے دونوں سکون سے بیٹھے تھے کہ گدھے نے چیتے سے کہا کہ چیتے؟ تو بڑا چیتا بنا پھڑتا ہے چل آج میں تیرا جنرل نالج چیک کرتا ہوں۔
تو چیتا کہتا ہے کر بھئی تو گدھا اس سے پوچھتا ہے کہ یہ بتا آسمان کا رنگ کیا ہوتا ہے؟

چیتے نے کہا جانے من بہت سمپل آسمان کا رنگ نیلا ہوتا ہے۔ گدھا کہتا ہے نہیں نہیں یار توں غلط کہ رہا ہے آسمان کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ دونوں میں ایک بہت دھواں دار قسم کی بحث ہوتی ہے جب دو اڑھائی گھنٹے بحث کر کے کالے پیلے ہو کے ٹھنڈے پر جاتے ہیں تو چیتا کہتا ہے دیکھ بھائی میں صحیح کہ رہا ہوں اور تو غلط کہ رہا ہے آسمان کا رنگ چیک کر نیلا ہے سفید نہیں ہو۔

اگر تو میری بات نہیں مانتا تو چلو آو ہم جنگل کے بادشاہ سلامت کے پاس چلتے ہیں۔ شیر کے پاس پہنچ جاتے ہیں چیتا اور گدھا۔ شیر پوچھتا ہے کیسے آنا ہوا بھئی آپ دونوں کا؟ تو چیتا کہتا ہے بادشاہ سلامت جان کی امان چاہتا ہو یہ گدھا اور میرے درمیان ایک بحث چھڑ گئی تھی کہ آسمان کا رنگ کیا ہے؟

میں اسکو کہہ رہا ہوں کہ نیلا رنگ ہوتا ہے اور یہ کہہ رہا ہے سفید ہوتا ہے۔ تو بادشاہ سلامت آپ فیصلہ کردیں۔ شیر دونوں کو دیکھتا ہے گدھے کو بھی دیکھتا ہے اور چیتے کو بھی دیکھتا ہے۔ اور فیصلہ سناتا ہے کہ آسمان کا رنگ نیلا ہوتا ہے۔جس پے چیتا بہت خوش ہوتا ہے اور ساتھ ہی اپنے درباریوں کو کہتا ہے کہ اس چیتے کو جیل میں ڈال دیا جائے ، چیتا حیران ہوتا ہے اور شیر سے پوچھتا ہے بادشاہ سلامت سچا بھی میں اور سزا بھی مجھے ہی مل رہی ہے یہ آپکا کا کیسا انصاف ہے؟

تو شیر اسے کہتا ہے سزا تمہیں اس چیز کی مل رہی ہے کہ تم نے گدھے کے ساتھ بحث کیوں کی تھی۔ میرے دوستو آپ جب بھی زندگی میں بحث گدھے یا گدھوں کے ساتھ کرو گے اسکا نتیجہ کبھی بھی اچھا نہیں نکلے گا۔ آپ بیوقوف کے سا تھ کبھی بھی بحث نہیں کر سکتے۔ کبھی جیت نہیں سکتے حق پر ہونے کے باوجود۔ وہ اپنے تجربہ سے آپکو مار ماریں گیں۔ زندگی میں جب بھی آپکے بحث میں آجائیں ، آپکو الجھا دیں تو اس چیز سے جان چھڑانے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے جو قرآن پاک آپکو بتاتا ہے۔

وَعِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا
ترجمہ: اور رحمنٰ کے بندے وہ ہیں جو زمین پردبے پاؤں چلتے ہیں اورجب ان سے جاہل لوگ بات کریں تو کہتے ہیں سلام ہے (سورة الفرقان آیت 63)

جی آپ قالو سلام کہے اور اس حالات سے چلتے بنیں۔ کبھی بھی گدھوں کے ساتھ ، جاہلوں کے ساتھ بحث نہ کریں۔ آپکا ٹائم قیمتی ہے۔ آپ انکے ساتھ کبھی بحث جیت ہی نہیں سکتے ۔ گدھوں کی عادت ہوتی ہے فالتو قسم کی بحث کرنا۔ میں زندگی میں بہت سے ایسے لوگو کو جانتا ہوں خوامخواہ پانی میں مدھانی ڈال کر بیٹھے ہوتے ہیں اور اسکا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا ہوتا ہے ۔

اس لیئے جب بھی زندگی میں گدھے سے بحث ہو آپ قالو سلام کہے اور اس حالات سے چلتے بنیں۔ اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور سب کے لیے آسانیاں عطا فرمائے۔

کہانی پسند آئے تو شیئر ضرور کریں۔

To Top