امریکیوں کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ایک اور تحفہ

امریکیوں کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ایک اور تحفہ

لنڈا بازار پورے پاکستان میں بولی جانے والی ایک عام اصطلاح ہے جو عام طور پر ایک ایسے بازار کے لۓ استعمال کی جاتی ہے جہاں بیرون ملک سے آئے ہوۓ پرانے کپڑوں ، جوتوں ، پردوں ، کمبلوں ، کھلونوں اور دیگر سامان کی خرید و فروخت کی جاتی ہے ۔ اس بازار کا یہ نام درحقیقت لندن والے بازار سے نکلا ہے ۔ امریکہ اور برطانیہ پرانے کپڑوں کے سب سے بڑے ایکسپورٹر ہیں ۔ امریکی کپڑوں کی مارکیٹ افریقی، اور مشرقی پورپ کے ممالک ہیں ۔جب کہ پاکستان ، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک میں آ نے والے مال کا تعلق برطانیہ سے ہوتا ہے ۔

4

یہ کپڑے  اور سامان درحقیقت وہ ہوتا ہے جو وہاں کے باشندے خیرات کی صورت میں دیتے ہیں ۔ خیراتی ادارے اس سامان کو جمع کر کے خیراتی دکانوں تک پہنچا دیتے ہیں اور وہاں سے جو مال فروخت ہونے سے رہ جاتا ہے اس میں سے کچھ کو ریسائکل پلانٹ کے ذریعے دوبارہ استعمال کے قابل بنا لیا جاتا ہے جبکہ باقی سامان کپڑوں کے ایکسپورٹروزن کے حساب سے  خرید لیتے ہیں اور دیگر ملکوں میں برآمد کر دئے جاتے ہیں

1

پاکستان میں یہ مال بحری راستے سے کنٹینر کی صورت میں آتا ہے ۔ جہاں سے اس کو تھوک مارکیٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔اس مارکیٹ میں سب سے پہلے ان کی چھانٹی ہوتی ہے اور پینٹ،شرٹ جیکٹ، سوئيٹر ، اور اس کے علاوہ متفرقات کو علیحدہ علیحدہ گانٹھوں کی صورت میں باندھ دیا جاتا ہے پھر ان کی فروخت تول کر کی جاتی ہے ۔ وہاں سے دکان دار ان کو اپنی دکانوں پر لے آتے ہیں ۔ دکانوں پر مال کی درجہ بندی ہوتی ہے اور کچھ کو ہینگرز میں سجا کے پیش کیا جاتا ہے اور کچھ کو ڈھیر کی صورت میں بیچا جاتا ہے ۔

آجکل کے دور میں چونکہ مہنگائی میں اضافہ ہوگیا ہے لہذا اونچے طبقے کے افراد ، شوبز سے منسلک افراد یہاں خریداری کے لۓ آتے ہیں اور مختلف بین الاقوامی برانڈز کی اشیا سستے داموں خرید کر لے جاتے ہیں ۔ اس سبب اب لنڈا بازار کے دکان داروں نے بھی برانڈڈ اشیا کو مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیا ہے ۔

5

اور اس طرح اس کہانی کا خاتمہ ہوتا ہے جس کا آغاز برطانیہ کے ایک گھر سے غریبوں کودئيے جانے والے  ایک تحفے سے ہوا تھا۔

To Top