دنیاوی ہوس اور لالچ کی داستان ،جس نے پورا گھر برباد کر دیا

دنیاوی ہوس اور لالچ کی داستان ،جس نے پورا گھر برباد کر دیا

مجھے جب بھائی کی موت کی اطلاع ملی میں اس وقت کالج میں تھا ۔یہ میرا ڈاکٹری کا آخری سال تھا ۔میرے لیۓ وہ وقت قیامت سے کم نہ تھا ۔ میرے ماں باپ کا ہم دونوں کے سوا اس دنیا میں اور کوئي تھا بھی نہیں ۔ہم دو ہی بھائی تھے میرے اور میرے بھائی کے درمیان پندرہ سالوں کا فرق تھا اس کے باوجود میرے بڑے بھائی میرے دوستوں کی طرح تھے ۔


جب میں گاؤں گیا تو پتہ چلا کہ کھیتوں کو پانی دینے کے جھگڑے میں میرے بھائي کو برابر والے زمیںداروں نے گولی مار دی میرے والد کے کندھے جوان بیٹے کو کاندھا دیتے ہوۓ ایسے جھکے کہ پھر ان کو میں نے اٹھتے نہیں دیکھا مگر وہ جب بھی مجھے دیکھتے ان کی آنکھوں میں ایک امید ہوتی کہ اب بھائی کی جگہ مجھے لینی ہو گی ۔

میں ان سے نظریں چرا لیتا کیوںکہ میری ساری زندگی ہوسٹلز میں گزری تھی مجھے بھائی نے کبھی ان زمینوں کے جھگڑوں میں الجھنے ہی نہ دیا تھا ۔ بھائی کی معصوم دو بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ مجھے یہ سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ میں انہیں کیسے تسلی دوں ۔ میری تعلیم بھی اس سارے سلسلے میں بری طرح متاثر ہو رہی تھی ۔

میں اس سب سے جان چھڑا کر بھاگ جانا چاہتا تھا مگر ایک دن ابو کا فون آیا اور انہوں نے مجھے فوری طور پر گاؤں بلایا میں ڈر گیا میں اب مذیڈ کسی سانحہ کے لیۓ تیار نہ تھا میں نے ان سے فون پر بلانے کی وجہ بار بار پوچھی مگر انہوں نے صرف اتنا کہا کہ تم آجاؤ پھر بات ہو گی۔

میں اسی شام گھر پہنچا تو گھر کی فضا کا تناؤ دیکھ کر دنگ رہ گیا ہر کوئی میرا استقبال خوشدلی سے کرتے ہوۓ مجھ سے نظریں چرا رہا تھا ابو سے ملا تو انہوں نے کہا کہ شام کو تیار رہنا تمھارا نکاح ہے ان کے یہ جملے سن کر میں ششدر رہ گیا میں نے جب پوچھا کہ کس سے تو ان کے جواب نے میرے سر پر بم پھاڑ دیا کہ بھابھی کے گھر والے عدت کے بعد انہیں واپس لے جانا چاہ رہے ہیں ۔

ابو نہیں چاہتے تھے کہ بھابھی گھر سے جائيں اور ان کی زمینوں کا بٹوارہ ہو اسی وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میرا نکاح بھابھی سے پڑھوا دیا جاۓ ۔میں تڑپ اٹھا میں نے ان سے کہا کہ بھابھی تو میری ماں جیسی ہیں میں نے ان کو کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا ہے ۔

مگر ابو کا فیصلہ اٹل تھا اور اس شام میرا نکاح بھابھی کے ساتھ کروا دیا گیا ۔ اس رات مجھے جب میرے کمرے میں دھکیلا گیا تو ان لمحوں میں میں نے ہر ہر پل یہ دعا کی کہ اس سے پہلے مجھے موت آجاۓ میں نہیں جانتا تھا کہ بھابھی نے کس مجبوری کے تحت اس رشتے کے لیۓ ہاں کی تھی ۔

میں کمرے میں داخل ہوا تو میرے پلنگ پر ایک گٹھڑی کی صورت میں میری سابقہ بھابھی اور میری موجودہ بیوی کا وجود پڑا تھا ۔ میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی گٹھڑي میں حرکت پیدا ہوئي اور وہ پلنگ سے اٹھ کر میرے پیروں میں بیٹھ گئيں میرے پیر پکڑ کر روتے ہوۓ کہنے لگیں کہ مجھے ہاتھ مت لگانا میں آج بھی خود کو تمھارے بھائی کی امانت سمجھتی ہوں ۔

مجھے تمھارے والد نے دھمکی دی کہ اگر میں اس نکاح کے لیۓ حامی نہیں بھروں گی تو وہ مجھ سے میری بیٹیاں چھین لیں گے میں تمھارے بھائی کے بعد سانس تو لے رہی ہوں اگر میری بیٹیاں مجھ سے دور ہوئیں تو میں تو سانس بھی نہ لے پاؤں گی ۔اس رات میں نے اور میری بیوی نے دل بھر کے آنسو بہاۓ ۔

اس کے بعد فجر سے پہلے میں نے اپنی دونوں بھتیجیوں کو بھی اٹھا کر اپنے کمرے میں لے آیا ۔کمرے کے دروازے کو اچھی طرح بند کرنے کے بعد ہیٹر کے گیس کا نوزل ہیٹر سے جدا کر کے گیس کا والو کھول دیا ۔ بھابھی مجھے یہ سب کرتے دیکھ رہی تھیں انہوں نے مجھے اس عمل سے نہیں روکا میں نے ان سے کہا کہ وہ جا کر بیڈ پر بچیوں کے ساتھ لیٹ جائیں اور خود میں جا کر صوفے پر لیٹ گیا ۔

میرے ذہن پر رفتہ رفتہ تاریکی چھا رہی تھی مگر میں اپنے فیصلے سے مطمئین تھا میرے پاس اس کے علاوہ کوئی حل نہ تھا میرے والد کو زمینوں کا بٹوارہ قبول نہ تھا اب وہ ہم سب کے بغیر ان تمام زمینوں کے بلاشرکت غیرے مالک تھے ۔ میں مطمئین تھا ۔کچھ ہی پلوں میں اپنے بھائی کے پاس پہنچ جاؤں گا اور پھر ان کی امانتیں ان کے حوالے کر دوں گا ۔

To Top