آج کی مشرقی عورت کے شب و روز۔۔۔

آج کی مشرقی عورت کے شب و روز۔۔۔

صبح کی اذان کی آواز کے ساتھ اس کی آنکھ کھل گئی جب اس نے بستر سے اٹھنے کی کوشش کی تو اس کے جسم نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا وہ بہت تھک چکی تھی اسے آرام چاہیئے تھا،مگر وہ مجبور تھی اس کے پاس کاموں کی ایک بہت بڑی لسٹ تھی ۔بچوں کو اسکول بھیجنا تھا، شوہر کو آفس ،ان سب کا لنچ تیار کر کے ساتھ دینا تھا اور خود بھی تو جانا تھا ۔

وضو کر کے نماز کے لئے جب کھڑی ہوئی تو تب بھی رب کی بارگاہ میں حاضری ادھوری ہی لگی مگر یہ وقت سوچنے کا نہ تھا اس کو جلد ا‍ز جلد سب کو جگانا بھی تھا اور تیار بھی کروانا تھا جلدی جلدی سب کام سمیٹنے تھے سب کو بھیج کر وہ خود بھی گھر سے نکلی آج پھر وہ لیٹ ہو گئی تھی یعنی آج پھر ڈانٹ پڑے گی۔ وہ کڑھتے ہوئے بس میں کھڑے سوچ رہی تھی کہ کچھ بھی تو وہ ٹھیک سے نہیں کر پا رہی تھی۔ نہ نوکری،نہ گھر،یہاں تک کہ  عبادت بھی نہیں کر پاتی۔

آفس پہنچی تو ایک مصروف دن باس کی ڈانٹ کے ساتھ اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ کام میں جت گئی۔ لنچ بریک میں اس نے ایک کپ چائے پر اکتفا کیا اس کو لگ رہا تھا کہ جیسے اس کو بخار ہو گیا ہے۔ نماز پڑھنے کے بعد اس نے سوچا کہ  چھٹی جلدی لے لیتی ہوں مگر اس کے باس نے منع کر دیا ۔ اس نے سوچا گھر جا کے بس آرام کرے گی ۔آفس سے نکلنے سے پہلے اس نے اپنے شوہر کو کہا کہ بائیک پر مجھے بھی پک کرلیں گھر میں داخل ہوتے ہی اس کے شوہر نے گرماگرم چائے کی فرمائش کی اور خود کپڑے بدلنے چلے گئے ۔

01

Source: www.salon.com

اس نے سوچا وہ بھی تو آفس سے آئی ہے ،وہ بھی تو تھکی ہوئی ہے ۔کوئی اپنے شوق کے لئے تو جاب نہیں کر رہی مگر یہ سب وہ صرف سوچ ہی کے رہ گئی جانتی تھی کہ اگر کچھ کہا تو اس کا بدلہ گھر کے ماحول کی تناؤ کی صورت میں ملے گا جو وہ نہیں چاہتی تھی۔خاموشی سے کچن میں جا کرچائے بنائی اور پھر بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ رات کے کھانے کا بھی انتظام کیا۔ کھانے کے بعد کچن سمیٹتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ وہ یہ سب کیا کر رہی ہے؟ نہ تو وہ بچوں کو وقت دے پا رہی ہے نہ شوہر کو۔ جب تک وہ کمرے میں آتے ہیں وہ ان سے پہلے سو چکی ہوتی ہے۔
اس نے یہ نوکری مجبورا جوائن کی تھی جب اس کے شوہر بے روزگار تھے ۔ مگر اب تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں وہ جاب چھوڑ سکتی ہے مگراب اس کے گھر کے اخراجات اتنے بڑھ چکے تھےکہ وہ اس کے شوہر کی تنخواہ میں پورے نہیں ہو سکتے۔

آج اب وہ بستر پر لیٹی تو اس نے اپنے شوہر سے بات کرنے کا فیصلہ کپا اور ان کو اپنی جاب نہ کر سکنے کا بتایا جواب اس کی توقع کے عین مطابق تھا کہ ابھی بہت ذمہ داریاں ہیں ۔بچوں کی پڑھائی کے اخراجات،مستقبل کے لۓ سوچنا اور کچھ پیسے جمع کرنا اور سب سے بڑھ کر بیوی کا تو فرض ہوتا ہے شوہر کا ہر جگہ ساتھ دینا وغیرہ وغیرہ۔

اس پل اس نے صرف ایک بات سوچی کہ کیا سب فرائض پورے کرنا صرف بیوی پر لازم ہوتا ہے؟؟؟

کیا جاب کرنے والی عورت کو باہر کے ساتھ ساتھ گھر دیکھنا بھی صرف اسی کی ذمہ داری ہے؟؟؟

کیا گھر کو دیکھنا صرف عورت کا فرض ہے؟؟؟

 

 

 

To Top