Must Read

موجودہ دور کے انساں پر اک خوبصورت غزل

سبھی فرشتے ہیں یہاں تو خطاکار کون ہے
پاک دامن ہیں یہاں تو گنہگار کون ہے

اپنا آپ ڈوبا ہے غلطیوں میں
مجمعے سے ڈھونڈ رہاہوں سزاوار کون ہے

حسرت یہی کہ مل جائے زمانہ
گریباں نہیں دیکھتا کہ حقدار کون ہے

اندر جو لڑائی میں اور توُ کی ہے
یہ بُت سا پھر کیا ہے یہ باہر کون ہے

تضاد سا بھر اہے ظاہر و باطن میں
معلوم یہ نہیں کہ خود ار کون ہے

سبھی ہیں قطار میں مطلب کے واسطے
فقیر کون ہے یہاں امیدوار کون ہے

انگلیاں ہیں سب کی اک دوسرے پہ
داغدار نہیں کوئی تو قصور وار کون ہے

یہاں ہیں سارے ہوش میں اگر
بہکا بہکا یہ پھر مے خوار کون ہے

منز ل و رختِ سفر نہیں میرا کوئی
میں چل کے رُک گیا سا منے دیوار کون ہے

ملامت نہیں کوئی ضمیر ہے مرا ہوا
آئینے میں دیکھتا ہوں یہ جاندار کون ہے

گڑ گڑا کے پوچھوں خدا سے ملکؔ
اگر قرار ہے مجھے تو بے قرار کون ہے

Parhlo

Parhlo.com is the leading open platform that represents the voice of youth with viral stories and believes in not just promoting Pakistani talent and entertainment but in liberating Pakistani youth and giving rise to young changemakers!

Parhlo Newsletter

You have Successfully Subscribed!

Parhlo © 2014-2017. Parhlo.com is Pakistan’s leading and most inspiring youth based content publishing platform!