گھروں میں اعتکاف پر بیٹھی عورتوں کا اعتکاف کسی صورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مختلف مکتبہ فکر کے علما میں نئی بحث کا آغاز ہو گیا - Parhloگھروں میں اعتکاف پر بیٹھی عورتوں کا اعتکاف کسی صورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مختلف مکتبہ فکر کے علما میں نئ

گھروں میں اعتکاف پر بیٹھی عورتوں کا اعتکاف کسی صورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مختلف مکتبہ فکر کے علما میں نئی بحث کا آغاز ہو گیا

رمضان کے آخری عشرے میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد رمضان کی زيادہ سے زيادہ برکات و فیوض کے حصول کے لیۓ سنت نبوی کی پیروی میں اعتکاف اختیار کر لیتے ہیں ۔ جو کہ انتہائي خیر و برکت کا سبب ہوتا ہے ۔مردوں کے اعتکاف کے لیۓ مسجد کے اندر ہی خصوصی جگہ ترتیب دی جاتی ہے

مگر عورتوں کے اعتکاف کے لیۓ اہتمام ہمیں عام طور پر مساجد میں نظر نہیں آتا اور یہ مانا جاتا ہے کہ عورتیں مسجد کے اندر اعتکاف کے لیۓ نہیں بیٹھتی ہیں بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ عورترں کا اعتکاف مسجد میں نہیں ہوتا ہے اس کے لیۓ مختلف مکتبہ فکر کے علما مختلف راۓ رکھتے ہیں اور اس کے لیۓ ان کے پاس مختلف دلائل بھی موجود ہیں

عورتوں کے اعتکاف میں بیٹھنے کے حوالے سے ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سےمثالیں ملتی ہیں کہ وہ جب اعتکاف میں بیٹھتے تھے تو ان کی ازواج مطہرہ بھی علیحدہ جگہ پر مگر مسجد میں ہی ان کے ہمراہ اعتکاف کیا کرتی تھیں

’’اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات نے بھی اعتکاف کیا ہے۔‘‘

کچھ طبقہ فکر کے علما کا یہ ماننا ہے کہ عورت کا اعتکاف مسجد ہی میں ہوتا ہے اور اگر مسجد کے بجاۓ اعتکاف گھر میں کیا جاۓ تو وہ اعتکاف ہی نہیں ہوتا ان کے لیے اعتکاف بیٹھنے کی جگہ مساجد ہی ہیں نہ کہ گھر، جیسا کہ بعض مذہبی حلقوں میں گھروں میں اعتکاف بیٹھنے کا سلسلہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی اعتکاف بیٹھتی رہی ہیں اور ان کے خیمے مسجد نبوی میں ہی لگتے تھے، جیسا کہ صحیح بخاری میں وضاحت موجود ہے اور قرآن کریم کی آیت ﴿ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ ۙ فِي الْمَسٰجِدِ ﴾ (البقرة: ۱۸۷) سے بھی واضح ہے۔

مگر اس کے برخلاف کچھ لوگ اس حوالے سے حضرت عائشہ کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس کو بنیاد بنا کر مختلف طبقہ فکر کے علما عورتوں کے مسجد میں داخلے کی ممانعت فرماتے ہیں جس میں حضرت عائشہ کا فرمان تھا کہ زمانے کی بے حیائی اور برائیاں دیکھ کر اگر حضور اکرم بھی اس دور میں ہوتے تو عورتوں کے مسجد میں داخلے پر پابندی لگا لیتے

اس بات کو بنیاد بنا کر نہ صرف عورتوں کا مساجد میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا بلکہ اعتکاف کے لیۓ بھی گھروں میں بٹھانے کا رواج ڈال دیا گیا

بےشک اللہ نیتوں کے حال سے واقف ہے اللہ کی ذات کو جگہوں سے مطلب نہیں ہوتا اس کو تو صرف انسان کا تقوی دیکھنا ہوا ہے اللہ تمام معتکفین کے اعتکاف قبول فرماۓ آمین

To Top