ایک شہید کی بیوہ کا سوال

ایک شہید کی بیوہ کا سوال

آیا لاڑی اے تیرا سھریاں والا ویاون آیا

ڈھولک کی تھاپ پر بجتے گانے اور بارات کی آمد کے شور نے ہر جانب خوشی اور گہماگہمی کی فضا تھی۔ کھڑکی سے جھانکتے ہوۓ میں سوچ رہی تھی کہ علی کیسے لگ رہے ہوں گے؟ گھوڑے پر بیٹھے علی اپنی تمام تر وجاہت اور خوبصورتی  کے ساتھ ،نظر لگ جانے کی حد تک اچھے لگ رہے تھے ۔ میں فورا کھڑکی کے پاس سے ہٹ گئی کہ کہیں میری نظر نہ لگ جاۓ۔

گھونگھٹ اٹھاتے ہی علی نے جو پہلا جملہ اس سے کہا اس نے ان کے لۓ محبت کو اور بڑھا دیا انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا بہت شکرگزار ہوں کہ اس نے مجھے تم سے نوازا میں ہمیشہ یہ کوشش کروں گا کہ اس نعمت اور انعام کا ہر ممکن خیال رکھ سکوں مگر اسی اللہ نے مجھے ملک کا ایک سپاہی بھی بنایا ہے، تو کبھی اپنی محبت کو میرے فرض کے راستے میں مت آنے دینا۔

6

کسی کا ساتھ زندگی کو اتنا خوبصورت بنا سکتا ہے یہ تو کبھی میں نے سوچا ہی نہ تھا۔ علی بہت اچھے تھے وہ ہر فرد کا بہت خیال رکھتے تھے ۔ ان کی چھٹیاں ختم ہونے والی تھیں مگر میں ان کے بغیر نہیں رہنا چاہتی تھی پتہ نہیں اتنی محبت کیسے ہو گئی تھی، مگر علی کا جانا بھی ضروری تھا ۔ وہ بار بار آنسو صاف کرنے پر بولے کسی جنگ پر تو نہیں جا رہا جو تم ایسے رو رہی ہو۔

میری طبیعت بھی کچھ گری گری سی رہنے لگی تھی ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ خوشخبری ہے ۔ علی کے گھر والے جو اب میرے بھی گھر والے تھے اور زیادہ میرا خیال رکھنے لگے تھے ۔علی بھی بہت خوش تھے ۔ وہ آنا چاہتے تھے مگر ان کو چھٹی نہیں مل پا رہی تھی ۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ہمارے بچے کی پیدائش کے وقت وہ میرے پاس ہوں گے ۔ دن تیزی سے گزر رہے تھے ۔ ہمارے گلشن میں پھول کھلنے کا وقت قریب آتا جا رہا تھا ۔

10

پھر علی آگئے، ان کے سینے سے لپٹ کر ،ان کی بانہوں میں چھپ کر میں نے انہیں ہر گزری رات کی داستان سنائی۔ آنے والے وقت کے خواب بنے ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے درخواست دی ہے کہ ان کی پوسٹنگ کسی ایسی جگہ کی جاۓ جہاں وہ اپنے خاندان کو بھی رکھ سکیں۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میری طبیعت بگڑ رہی ہے اسی وقت علی کے فون کی گھنٹی بجی ۔

دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے میں چھپ کر ائیر بیس پر حملہ کر دیا تھا علی کو فورا وہاں پہنچنے کا حکم ملا تھا۔ سخت امتحان کا وقت تھا، علی نے مجھے اور میرے ساتھ اپنی امی کو ہسپتال چھوڑا۔ وہ وردی میں آج بھی بہت حسین لگ رہے تھے۔ میں بس ان کو دیکھتے رہنا چاہتی تھی۔ مگر ان کو جانے کی جلدی تھی میرے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوۓ انہوں نے مجھے تسلی دی اور جلدی واپسی کی یقین دہانی کرواتے ہوۓ کہا کہ فوجی کی بیوی کبھی حوصلہ نہیں ہارتی ۔

تکلیف بڑھتی جا رہی تھی ، میں بہت حوصلے کے ساتھ اس امید پر سب برداشت کر رہی تھی کہ آج علی کو اپنی زندگی کا حسین ترین تحفہ دے سکوں گی ۔ علی کا بیٹا ہوا تھا میرے کانوں میں علی کے لفظ گونج رہے تھے کہ میرا بیٹا ہوا تو اس کا نام عبداللہ رکھوں گا۔ میں بار بار سب سے علی کا پوچھ رہی تھی مگر کچھ پتا نہیں چل رہا تھا ۔

فوج اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلہ ابھی جاری تھا ۔ مجھے اگلے دن چھٹی مل گئی ۔ گھر کے دروازے پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کے ٹھٹک گئی ۔علی نے اس بار بھی اپنا وعدہ پورا کیا تھا ۔وہ اپنے بیٹے کے استقبال کے لئے اس سے پہلے موجود تھے ۔مگر کفن اور پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوۓ ۔ اپنے ملک کو بچاتے ہوۓ وہ دہشت گرد کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے، اس طرح انہوں نے بہت سارے معصوموں اور جہازوں کو تو بچا لیا مگر خود شہید ہو گئے ۔

مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بیٹے کی پیدائش پر خوش ہوں یا شہید کی بیوہ کے اعزاز ملنے پر فخر کروں یا ایک دن کے بیٹے کے یتیم ہونے کا غم کروں؟؟

To Top