ایک ننھے فرشتے کی خودداری کی کہانی

ایک ننھے فرشتے کی خودداری کی کہانی

ہفتہ کی ایک شام میں اور میرا بھائی اپنے کمرے میں بیٹھے پڑھ رہے تھے ،چو نکہ یہ ویکینڈ تھا تو ہم نے باہر جانے کا پلان بنایا . کچھ دوستوں کو پلان میں شامل ہونے کا کہا مگر مصروفیات کی وجہ سے انھوں انکار کر دیا۔ خیر ہم دونو ں بھائی باہر گئے .بجٹ کم ہونے کی وجہ سے ہم سستی جگہوں پر جاتے تھے کبھی گوال منڈی تو کبھی انار کلی جاتے تھے ، جب ہوسٹل سے باہر نکلے تو گھر کی بہت یاد آئی.

ہمارے علاقے کے دہی بڑ ے مہشور تھے۔ گھر کی یاد تازہ کرنے کی غرض سے بھائی نے بائیک ا نار کلی فوڈ سٹریٹ کی طرف موڑ لی . ہم نے بیٹھتے ہی دو دہی بڑ ے کے پیالے اور ڈرنک کا آرڈر دیا . دہی بڑ ے کھا تے ہوئے ایک بچہ کھلونے بیچنے کی غرض سے ہمارے پاس آیا اور کہا بھائی کھلونا لے لو . بچہ نہا یت ہی معصوم تھا .میں نے اس کی مدد کی غرض اسے تیس روپے دئیے لیکن اس بچے نے پیسے لینے سے انکار کر دیا اور کہا “بھائی میں مانگنے والا نہھیں ہوں جب تک آپ میرے کھلونے نہیں لو گے میں آپ سے پیسے نہیں لوں گا ”

02

Source: MediaLeaks

اس بچے کے ان الفاظ نے  مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا. میں نے بچے کو اپنے ساتھ بٹھایا اور بوتل پلائی اور اس سے پیسے نا لینے کی وجہ پو چھی تو بچے نے جو جواب دیا وo دل کو چھو لینے والا تھا۔ اس نے کہا “اگر آج میں نے یہ پیسے یونہی لے لیے تو بڑ ے ہو کر مجھے مانگنے کی عا دت پڑ جائے گی” ان الفاظ کو سننے کے بعد میرے بھائی نے مجھے حیران ہو کر دیکھا .بھائی نے اس بچے سے کھلونا لے کر اسے پیسے دئیے جب اس نے پیسے لیے تو اس کے چہرے پر جو خوش تھی وہ نا قابل بیان ہے۔

جب ہم واپس اپنے روم میں آئے تو ہمارے ہاتھ میں کھلونا دیکھ دوست ہنسنے لگے اور کہا یار اب تم لوگ بچے نہیں ہو جو ان کھلونوں سے کھیلو گے، اس بات کے جواب میں میرے بھائی نے کہا “کبھی کبھی کچھ چیزیں بے وجہ بھی خریدی جاتی ہیں” آج بھی وہ کھلونا ہمارے کمرے میں پڑا ہے میں جب بھی اسے دیکھتا ہوں تو سارا واقعہ مجھے یاد آتا ہے اور چہرے پر عجیب قسم کی مسکراہٹ اور دل میں عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہی وہ احساس ہے جسے لوگ خودداری کا نام دیتے ہیں۔

To Top