'خواتین کے لیے سر یا چہرہ نہیں بلکہ صرف ۔۔۔۔۔ حصے کے ڈھانپنے کا حکم آیا ہے ۔ اسلامی مبلغ نے ایسی شرمناک بات کہہ دی کہ سننے والے شرم سے پانی پانی ہو گۓ

‘خواتین کے لیے سر یا چہرہ نہیں بلکہ صرف ۔۔۔۔۔ حصے کے ڈھانپنے کا حکم آیا ہے ۔ اسلامی مبلغ نے ایسی شرمناک بات کہہ دی کہ سننے والے شرم سے پانی پانی ہو گۓ

اسلام کے مطابق عورتوں لیۓ پردے ککے  خصوصی احکامات موجود ہیں اسلام تاریخ میں پانچ ہجری میں سورہ نور کی آیات میں خواتین کے لیۓ پردے کا حکم کچھ ان الفاظ میں دیا گیا

  ’’آپ مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمتوں کی حفاظت کریں۔‘

ان آیات کی شریح میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی مسلمان عورتوں نے اپنے آپ کو ایک ایسی چادر میں چھپا لیا تھا جس سے اس کے جسم کے نشیب و فراز واظح ہونے کے بجاۓ اس چادر تلے چھپ گۓ تھے اور انہی عورتوں کی پیروی میں مسلمان عورتیں آج بھی اپنے جسم و سر کو چادر میں چھپا کر رکھتی ہیں

مگر حال ہی میں ترکی کے ایک نام نہاد اسکالر نے اس حکم کی انتہائی شرمناک تشریح پیش کی 62سالہ ترک شہری عدنان اوکتر خودساختہ اسلامی مبلغ عدنان اوکتر ہے جو فحاشی اور عریانی پر یقین رکھتا ہےعدنان اوکتر کا کہنا ہے کہ ’’خواتین کواپنا پورا جسم نہیں ڈھانپنا چاہیے۔ انہیں صرف سرپستانوں(Nipples) اور پوشیدہ حصوں کو کپڑے سے چھپانا چاہیے۔ اس کے علاوہ پورا جسم ننگا رکھنا چاہیے تاکہ لوگ ان کی خوبصورتی کو دیکھ سکیں۔‘‘

عدنان اوکتر جیسے لوگ اسلامی تعلیمات کی اس طرح کی تشریحات پیش کر کے لوگوں کو نہ صرف گمراہ کر رہیےہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی لوگوں کی نظر میں اسلام کا منفی تشخص اجاگر کر رہے ہیں

عدنان اوکتر جو اپنے آپ کو ایک اسلامی اسکالر گردانتا ہے عملی طور پر ایک اچھا مسلمان متصور نہیں کیا جاتا ہے ان کے خلاف بہت ساری خواتین کی جانب سے جنسی و مالی استحصال کے الزامات ہیں

ان پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ وہ خواتین کی برین واشنگ کر گۓ ان کا نہ صرف مال ہتھیا لیتا ہے بلکہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کرتا ہے

عدنان اوکتر کی ذہنیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواتین کے متعلق رواں سال فروری میں اس نے کہا تھا کہ ’’خواتین خدا کی حیران کن تخلیق ہیں۔ دنیا میں ان جیسی خوبصورت مخلوق خدا نے اور کوئی نہیں بنائی۔ خواتین آرٹ کا ناقابل یقین نمونہ ہیں۔ انہیں اپنے آپ کو کپڑوں میں چھپا کر نہیں رکھنا چاہیے۔ ان سے محبت کی جانی چاہیے، ان کی تعریف کی جانی چاہیے اور ان کی حفاظت کی جانی چاہیے۔‘

عدنان اوکتر کے بارے میں اس قسم کے متنازعہ معاملات کے سامنے آنے کے باوجود ترک حکومات نے عدنان اوکتر کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کی ہو

To Top