پنجاب کی زینب ،خیبر پختونخواہ کی عاصمہ کے بعد اب سندھ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی باری ہے

پنجاب کی زینب ،خیبر پختونخواہ کی عاصمہ کے بعد اب سندھ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی باری ہے

قصور یں معصوم زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم کی بازگشت ابھی سن ہی رہے تھے ۔ابھی زینب کے قاتلوں کا مطالبہ جاری ہی تھا کہ کچھ وحشی درندے ایک اور گھر اجاڑ بیٹھے ایک اور ماں گي گود کو خالی کر گۓ ۔ اس دقعہ ان کا شکار سرحد کی معصوم عاصمہ بنی جس کو جنسی زيادتی کے بعد گنے کے کھیتوں مں مارنے کے بعد ڈال دیا گیا تھا ۔

تین جنوری کو عاصمہ کے گھر والوں نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ مردان پولیس کے پاس درج کروائی جس کے بعد پولیس نے عاصمہ کی تلاش کا آغاز کر دیا اگلے ہی دن پولیس نے عاصمہ کو تلاش تو کر لیا مگر اس کے جسم سے اس کے سانسوں کی ڈور ٹوٹ چکی تھی ۔ کسی موذی نے اس سے جنسی زيادتی کرنےکے بعد اس معصوم کلی کو بے دردی سے گلا دبا کر ہلاک کر ڈالا تھا ۔

عاصمہ کے ساتھ اس واقعے نے پوری قوم کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے مگر اس قتل کو بھی ہمارے سیاسی رہنما سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو کہ ایک شرمناک عمل ہے ۔زینب کا قتل پنجاب قصور کے علاقے میں پیش آیا جہاں پر مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہے ۔

زینب کے قتل و جنسی زیادتی کے واقعے کے سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتیں سامنے آگئیں اورا نہوں نے  حکومتی جماعت کو نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ قصور کے پورن ویڈیوز سیکس اسکینڈل کے تناظر میں حکومتی ارکان کو براہ راست اس کا ذمہ دار قرار دیا ۔

مگر اس کے بعد معصوم زینب کے بعد معصوم عاصمہ کے واقعے کے سامنے آتے ہی سب کی توپوں کا رخ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب ہو گیا ۔ اور انہوں نے اس  واقعے کی ذمہ دار سرحد حکومت کو قرار دے دیا ۔ دوسری جانب سرحد پولیس نے عاصمہ کے قتل کی اور اس پر ہونے والے تشدد کی تو تصدیق کی ہے مگر انہوں نے فرانزک دپورٹ سے قبل جنسی زیادتی کی تصدیق سے انکار کر دیا ہے ۔

پنجاب اور سرحد میں ہونے والے ان واقعات کی مذمت میں پیپلز پارٹی نے بہت آگے بڑھ کر حصہ لیا اور مزمتی بیانات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ وزیر اعلی کی جانب سے بچوں کی اندر جنسی آگاہی تعلیمی مہم کا بھی آغاز کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعلی کی جانب سے ایسے فون نمبرز کا بھی اجرا کیا گيا ہے جس کے ذریعے خدانخواستہ ایسے کسی ہونے والے واقعے کی فوری اطلاع وزیر اعلی تک دی جا سکتی ہے ۔

پے در پے ہونے والے ان واقعات کے بعد یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ سندھ حکومت کو بھی اس قسم کی کسی مہم کہ حصہ بنانے کے لیۓ سندھ میں بھی ایسا کوئی واقعہ نہ ہو جاۓ ۔سیاست کی اس بھیڑ چال میں نقصان صرف اور صرف عوام کا ہوتا ہے کاش کے ہمارے سیاست دان اس بات کو سمجھ پائیں

 

To Top