کوک اسٹوڈیو کی سریلی کوئلیں

کوک اسٹوڈیو کی سریلی کوئلیں

روحیل حیات نے جب 2008 میں کوک اسٹوڈیو کا آغاز کیا تھا تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھاکہ وہ پاکستانی موسیقی کی نئی تاریخ رقم کرنے جا دہا ہے۔
سیزن 9 کے آغاز ہی سے ہر کوئی بڑی بڑی امیدیں لگا بیٹھا تھااور پھر جب اس سیزں کا آغاذ اے راہ حق کے شہیدوں جیسے صدابہار نغمے سے ہوا تو لگا کچھ خاص ہونے جا رہا ہے۔

اس سیزن کی سب سے خاص بات جو لگی وہ اس میں گلیمر کی حد سے ذیادہ بڑھی ہوئی آمیزش تھی کہیں پر آفریں آفریں کی صدائیں سن کر لگتا ہے کہ واقعی گلزار صاحب نے یہ غزل لکھی ہی مومنہ کے لۓ ہے تو کہیں دل زیب بنگش کا حسن دلسوز دلربا نہ رازی کی صداوؤں میں گم ہو جا تا ہے
ہم مانتے ہیں کہ آج کل گلیمر کا دور ہے مگر موسیقی کے پروگرام کی کامیابی کے لۓ لازمی شرط اچھی موسیقی ہے جس کو موجودہ پروڈیوسرز نے بہت خوبی کے ساتھ نبھایا ہے۔ مثال کے طور پر عابدہ پروین جو حقیقی معنوں میں اس دور کی سروں کی ملکہ کہلاۓ جانے کے قابل ہیں اس سیزن میں ان کے گاۓ جانے والے گیت دنیاۓ موسیقی میں ہمیشہ امر رہیں گے۔

01

Source: www.brecorder.com

نصیبو لال اور قرۃالعین بلوچ اس سیزن کے وہ نام ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہ تھے مگر ان کی شمولیت نے کوک اسٹوڈیو کو چار چاند ضرور لگا دۓ ہیں
ایک اور خاص بات جوکوک اسٹوڈیو کی خاصیت بنتی جا رہی ہے وہ نۓ ٹیلنٹ کی دریافت ہے اس سیزن میں بھی ہر سیزن کی طرح نے چہروں کو متعارف کرایا ہے جن میں مہوش حیات اور معصومہ انور شامل ہیں

BeFunky Collage

Source: www.cokestudio.com.pk

ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان کو موسیقی کی صنعت میں ممتاز مقام حاصل ہے لیکن یہ اعزازصرف پاکستان کو حاصل ہے کہ کوک اسٹوڈیو کا آغاز وہاں ہمارے نہ صرف بعد میں ہوا بلکہ وہ معیار کے اس سنگ میل کو بھی عبور نہ کر پائے جو کہ پاکستان والے قائم کر چکے ہیں لہذا انہیں کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ان کے گلوکار مثلا شلپا راؤ پاکستان آکر گا رہی ہے جو ہمارے اعلی معیار کا ثبوت ہے

خوبصورت موسیقی، حسین چہروں اور گانوں کے بہترین انتخاب نے کوک اسٹوڈیو کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لۓ ایک مثال بنا دیا ہے
جو لوگ یہ کہتے تھے کہ پاکستان کی موسیقی کی صنعت زوال کا شکار ہے کوک اسٹوڈیو کی حسین اور سریلی گلوکارائیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان عظیم ہے اور عظیم تر ہم بنا رہے ہیں۔

To Top