شعیب اختر - راولپنڈی ایکسپریس

شعیب اختر – راولپنڈی ایکسپریس

میں نے ٹرین سے زیادہ بار سفر تو نہیں کیا لیکن مجھے اپنا ٹرین سے کیا گیا آخری سفر آج بھی یاد ہے جب میں صرف 11 سال کا ایک بچہ تھا. وہ چھوٹا سا بچہ جو ٹرین کے پلیٹ فارم پر اپنے ابو کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ٹرین کا انتظار کر رہا تھا، سچ تو یہ ہے کہ میں دل میں دعا کر رہا تھا کہ ہماری ٹرین پلیٹ فارم پر کبھی پہنچے ہی نا کیوں کہ مجھے ٹرین کے سفر، اسکی آواز اور اس کی رفتار سے بہت ڈر لگتا تھا۔ لیکن شاید میری دعائیں ان ہزاروں لوگوں کے سامنے ہار گئی جو ٹرین جلدی آنے کی دعائیں کر رہے تھے۔ ٹرین جب پلیٹ فارم پر رکی تو میں نے اپنے ابو کا ہاتھ تھاما اور اللّه کا نام لے کر اس پر چڑھ گیا . سیٹ پر میں اتنا سہم کر بیٹھا جیسے یہ میری زندگی کا آخری سفر ہو۔ وہ تین گھنٹوں کا سفر میرے لئے تین سال کے برابر تھا، اس کے بعد میں نے ٹرین اور پلیٹ فارمز سے اپنا ناطہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔

کیا آپ کو یاد ہے آپکو پہلی محبت کس سے اور کب ہوئی؟ مجھے یاد ہے۔ مجھے پہلی محبت 14 سال کی عمر میں کرکٹ سے ہوئی۔ عجیب سی بات تھی کے مجھے تیز رفتار چیزوں سے ہمیشہ ڈر لگتا تھا لیکن اس کے باوجود جس چیز نے مجھے کرکٹ کا دیوانہ بنایا وہ تیز رفتار بولر تھے۔ ان کی رفتار، انکا جذبہ اور جنون.. ہر چیز محبت کے لائق تھی. میری محبت جنون میں اس وقت تبدیل ہوئی جب میں نے شعیب اختر نامی بولر کو پہلی بار بولنگ کرواتے ہوئے دیکھا.

06

Source: iccworld-cup2011.blogspot.com

19 دسمبر، 2005 کا وہ دن – پاکستان اور انگلینڈ ایک روزہ میچ میں آمنے سامنے، پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 210 رنز بنائے، انگلینڈ کی مضبوط ٹیم کے آگے یہ سکور ریت کا ایک ٹیلہ لگ رہا تھا جسے با آسانی پار کیا جا سکتا تھا۔ انگلینڈ نے اپنی بیٹنگ کا آغاز کیا، پہلا اوور کروانے لئے شعیب اختر سامنے آئے ۔۔ بڑے بال، مضبوط جسامت اور لمبا رن اپ۔ شعیب اختر نے پہلی بال ہی تیز رفتار باؤنسر ڈالی، انگلینڈ ٹیم کے اوپنر مارکس ٹریسکورتھک کی نظروں میں مجھے وہی ڈر اور خوف نظر آیا جو میری نظروں میں کبھی ٹرین کو دیکھ کر ہوتا تھا۔

شعیب اختر بھی بلکل اس دل ڈرا دینے والی ٹرین کی طرح ہی تھے جو دور سے آتے ہوئے ہی اپنی تیز رفتار سے پلیٹ فارمز پر کھڑے لوگوں کو ڈرا دے۔ اس میچ میں شعیب اختر نے 47 رنز دیکر 2 وکٹس لیں اور پاکستان نے وہ میچ سنسنی خیز مقابلے کے بعد 13 رنز سے جیت لیا۔ اسی شعیب اختر کے نام دنیا کی تیز ترین گیند کروانے کا ریکارڈ بھی ہے۔ بچپن میں ٹرین کے نام سے ڈرنے والے لڑکے کو راولپنڈی ایکسپریس سے محبت ہو چکی تھی۔ وہ راولپنڈی ایکسپریس جو اپنی تیز رفتار کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھی. کئی بار اس ٹرین کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کی رفتار نے اس کے رستے میں آنے والی ہر چیز کو کچل کر رکھ دیا۔ آج وہ ٹرین ٹریک پر دوڑتی تو نہیں لیکن دنیائے کرکٹ میں آج بھی جب تیز رفتار کا ذکر آتا ہے تو راولپنڈی ایکسپریس کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے

To Top